جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«رحم (رشتہ داری رحمان سے ملی ہوئی) ایک شاخ ہے، چنانچہ جو شخص اسے جوڑتا ہے میں اسے جوڑتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرتا ہے، میں اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 5989) میں مروی ہے۔
نیز یہ حدیث صحیح بخاری (حدیث نمبر 5988)میں بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «’’رحم‘‘ ایک شاخ ہے ’’رحمان‘‘ سے ملى ہوئى ۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کو اپنی رحمت اور رضامندی کے حصول کا ایک عظیم الشان سبب بنایا ہے اور اس کی شان کو بلند کرنے اور اس کے مرتبے کو بیان کرنے کے لیے اس کا نام اپنے نام «الرحمان» سے نکالا ہے۔ اسی لیے نصوصِ شرعیہ باربار اس کے حق کی عظمت اور قطع رحمی کی سنگینی کو بیان کرتی ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رحم ایک شاخ ہے۔ جو اسے جوڑتا ہے میں بھى اسے جوڑتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرتا ہے، میں بھی اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔» ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: «’’رحم‘‘ ایک شاخ ہے ’’رحمان‘‘ سے ملى ہوئى» یعنی ’’رحم‘‘ کا نام ’’رحمان‘‘ سے مشتق وماخوذ ہے۔ یہ اللہ کی رحمت کے آثار ونشانات میں سے ہے جو اس کے ساتھ یوں جڑا ہوا ہے جیسے رگیں اور شاخیں آپس میں گتھم گتھا ہوتی ہیں۔
’’رحم‘‘ کا اطلاق اگلے پچھلے تمام نسبى قرابت داروں پر ہوتا ہے، خواہ وہ میراث کے حق دار ہوں یا نہ ہوں اور خواہ وہ محرم رشتہ دار ہوں یا غیرمحرم۔
پھر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے ملاتا ہے، یعنی جو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، عزت افزائی اور بھرپور توجہ سے صلہ رحمی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے عظیم الشان فضل واحسان سے جوڑتا اور اپنی محبت وقربت سے اس کی عزت افزائی فرماتا ہے۔
علماء نے ذکر کیا ہے کہ صلہ رحمی کا انداز صلہ رحمی کرنے والے اور جس کے ساتھ کی جارہی ہے، اس کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، چنانچہ یہ کبھی مال کے ذریعے، کبھی خدمت کے ذریعے، کبھی ملاقات اور سلام دعا کے ذریعے، کبھی خط کتابت یا پیغام رسانی کے ذریعے اور کبھی کسی اور نیک پہلو سے ہوتی ہے۔ اور جو قطع تعلقی کرلیتا ہے اور رشتہ داروں سے مُنھ موڑ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے اپنی رحمت اور توفیق سے محروم کردیتا ہے۔
صلہ رحمی کی تعیین عرفِ عام پر موقوف ہوتی ہے، چنانچہ جو چیز لوگوں کے نزدیک صلہ رحمی شمار ہو تو وہی صلہ رحمی ہے اور جو چیز ان کے نزدیک قطع تعلقی شمار ہو تو وہی قطع تعلقی ہے۔ یہ بات زمان ومکان اور معاشرتی رواج کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی واجب ہے اور قطع تعلقی سے بچنا نہایت ضروری ہے، نیز یہ کہ ’’رحم‘‘ اللہ کی رحمت کے آثار ونشانات میں سے ہے اور اس سے مضبوط ربط میں ہے، چنانچہ جو اسے کاٹتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کٹ جاتا ہے اور جو اسے جوڑتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جڑ جاتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا کہ بدلہ وجزا جنسِ عمل سے ہوتی ہے (جزا ویسی ہی ملتی ہے جیسا عمل کیا جائے) اور یہ کہ اسلام افرادِ معاشرہ کے درمیان باہمی تعاون اور مضبوط رشتہ قائم رکھنے کا داعی ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔