بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی وقعت اگر ایک مچھر کے پَر برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سنن ترمذی (حدیث نمبر 2320) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 4110) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5292) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 943)


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ دنیا کے فریب میں آنے اور اس پر بھروسا کرنے سے منع کیا اور اس کی حقارت وبے وقعتی کو واضح فرمایا، تاکہ لوگ اس سے بے رغبتی اختیار کریں اور آخرت کے لیے عملی تیاری کریں، چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اگر اللہ کے نزدیک دنیا مچھر کے پَر برابر قدر وقیمت بھی رکھتی ... الخ۔» یعنی اللہ کے نزدیک دنیا کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔ اگر اس کی قیمت ایک حقیر اور معمولی کیڑے مچھر کے پَر برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافر کو اس میں سے ادنیٰ سا فائدہ پہنچاتا اور نہ اسے پانی کا ایک گھونٹ دیتا۔
اللہ تعالیٰ نے کافروں کو، باوجود اس کے کہ وہ اس کے دشمن ہیں، دنیا کا حصہ عطا کیا ہے کیونکہ یہ متاع نہایت حقیر وبے قیمت ہے۔ اور دنیا کو اپنے اولیاء سے پرے رکھا، تاکہ وہ اس کی چمک دمک سے محفوظ ومامون رہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دے رکھی ہے کہ ’’دنیا مومن کے لیے قیدخانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔‘‘ یوں ان بیاناتِ نبوی سے دنیا کی حقارت اور اس کی فانی حیثیت آشکار ہوجاتی ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے ہاں دنیا کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی!
اس حدیث مبارک میں مومن کے لیے تنبیہ ہے کہ دل کو دنیا سے جوڑنا گویا اُس چیز کى تعظیم کرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے۔ اس میں دنیا کی حقیقت کا بیان، زُہد وقناعت اور کم سے کم پر اکتفا کرنے کی ترغیب اور دنیا کی طرف جھکاؤ سے ممانعت ہے۔ علاوہ ازیں حدیث مبارک میں تعلیم وتربیت کے لیے مثالیں دینے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔