حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ملکِ شام تشریف لائے، جب کہ اہلِ شام وتر نہیں پڑھتے تھے۔ تو انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ میں اہلِ شام کو وتر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھتا؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا یہ ان پر واجب ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نمازِ عشاء سے طلوعِ فجر تک ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 22095) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3566) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 108)
حدیث کی مختصر وضاحت
نمازِ وتر رات کی نفلی نمازوں میں سب سے جلیل القدر اور سب سے زیادہ اجر والی ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر وحضر میں ہمیشہ اس کی پابندی فرمایا کرتے تھے اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اسے ہمیشہ پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میرے ربّ عزّوجل نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور اور وہ نمازِ وتر ہے ... الخ۔» اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز بطورِ اعزاز وشرف خاص طور پر عطا کی اور اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ بلند فرمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لیے مشروع کردی گئی۔ یوں یہ فرض نمازوں کے علاوہ اس اُمت کے لیے مزید فضیلت اور انعام کا باعث بن گئی۔
اسے ’’نمازِ وتر‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی رکعات طاق ہوتی ہیں، جفت نہیں، یعنی اسے ایک، يا تین، یا پانچ ... الخ رکعات کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔
پھر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ اس کا وقت نمازِ عشاء سے طلوعِ فجر تک ہے، خواہ نمازِ عشاء اپنے وقت پر پڑھی جائے، یا مغرب کے ساتھ جمع تقدیم کر کے۔ جب فجرِ صادق طلوع ہوجائے تو اس کے ساتھ ہی وتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کی نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
اس حدیث سے نمازِ وتر کا استحباب ثابت ہوا اور یہ کہ وہ سنتِ موکدہ ہے۔ مومن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ اس کی کم سے کم تعداد ایک رکعت ہے۔ علاوہ ازیں حدیث مبارک میں اس کا متعین وقت بھی بیان ہوا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کے لیے بالخصوص زائد فضیلت کے طور پر عطا فرمایا ہے۔