بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: «بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمھاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر تمھارے لیے بہتر ہے اور وہ وتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے اس کا وقت نمازِ عشاء سے طلوعِ فجر تک مقرر کیا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت خارجہ بن حُذافہ العدوی رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 9)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1418)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 452) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1168) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو سلسلہ احادیث صحیحہ (3/132) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 423)۔ یہ روایت صحیح ہے، سوائے«جو سرخ اونٹوں سے بڑھ کر تمھارے لیے بہتر ہے» کے الفاظ کے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نمازِ وتر اُن جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو نوازا ہے۔ اس نے اپنے کلامِ پاک میں اس کی قسم کھائی اور اسے رات کی نمازوں کا اختتامیہ قرار دیا۔ اس کی عظمتِ شان کی وجہ سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر وحضر میں کبھی اسے ترک نہ فرمایا، بلکہ اس پر مداومت فرمائی اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی پابندی کی تاکید فرمائی، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوں اور مزید اجر وثواب حاصل کرسکیں۔
چنانچہ حضرت خارجہ بن حذافہ العدوی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: «بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمھاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر تمھارے لیے بہتر ہے۔» اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس نماز کے ذریعے عزت بخشی، اسے تمھارے نوافل میں اضافے کا ذریعہ بنایا اور اس کے ذریعے تمھارے اجر وثواب کو بڑھایا۔ جو تمھارے لیے سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔ ’’سرخ اونٹوں‘‘ کا خصوصی ذکر اس لیے فرمایا کیونکہ یہ اہلِ عرب کے نزدیک سب سے نفیس، بیش قیمت اور محبوب ترین مال سمجھا جاتا تھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ وتر کی عظمتِ شان، رفعتِ منزل اور یہ واضح فرمانے کے لیے کہ وتر کی فضیلت دنیا کی قیمتی متاع اور زیب وزینت سے کہیں بڑھ کر ہے، ’’سرخ اونٹوں‘‘ کو بطور کنایہ بیان فرمایا۔
پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ نمازِ وتر کا وقت نمازِ عشاء کے بعد شروع ہوتا ہے، خواہ عشاء اپنے وقت پر پڑھی جائے، یا مغرب کے ساتھ جمع تقدیم کر کے۔ اور یہ وقت فجرِ صادق کے طلوع تک باقی رہتا ہے جس کے ساتھ ہی فجر کی نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
اس نماز کو ’’وتر‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی رکعات طاق ہوتی ہیں، جفت نہیں، یعنی ایک، یا تین، یا پانچ ... الخ۔
اس حدیث سے نمازِ وتر کا استحباب ثابت ہوا اور یہ کہ وہ سنتِ موکدہ ہے۔ مومن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ اس کی کم سے کم تعداد ایک رکعت ہے۔ علاوہ ازیں حدیث مبارک میں اس کا متعین وقت بھی بیان ہوا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کے لیے بالخصوص زائد فضیلت کے طور پر عطا فرمایا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔