«جس شخص نے صبح اور شام ’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ (پاک ہے اللہ تعالیٰ اپنی حمد وتعریف کے ساتھ) ایک سو بار کہا، قیامت کے دن کوئی اس کے عمل سے بہتر عمل لے کر حاضر نہیں ہوگا، مگر وہ انسان جس نے اس کے برابر، یا اس سے زیادہ دفعہ یہ ذکر پڑھا ہوگا!»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 2692) میں مروی ہے، جب کہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 5091) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی روایت سے الفاظ یوں ہیں: «سبحان اللہ العظیم وبحمدہ» (پاک ہے اللہ جو عظمت والا ہے، اپنی تعریف وحمد کے ساتھ)
حدیث کی مختصر وضاحت
ذکرِ الٰہی کی شان بڑی بلند ہے۔ یہ درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں ذکر کرنے والے مَردوں اور عورتوں کی تعریف فرمائی ہے۔ اسی طرح بہت سی احادیث میں ذکر کی ترغیب دی گئی اور اس کا اجرِ عظیم بیان کیا گیا ہے۔
انھی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے جس کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے کہ جو بندہ «صبح کے وقت» یعنی دن کے آغاز پر اور «شام کے وقت» یعنی شام کے آغاز پر یہ الفاظ کہے: «سبحان اللہ» یعنی میں اللہ تعالیٰ کو ہر اُس چیز سے پاک اور منزہ قرار دیتا ہوں جو اُس کی شانِ جلال اور کمال کے لائق نہیں، یعنی شریک، اولاد اور تمام کمیوں اور عیبوں سے۔ اور میں اُس کی صفاتِ کاملہ اور افعالِ جمیلہ پر اُس کی ثنا وتعریف اور حمد بیان کرتا ہوں کیونکہ وہی پاک ہے جو تنہا ہر حمد وثنا کا مستحق ہے۔
اور لفظ «وبحمدہ» (اپنی تمام حمد وتعریف کے ساتھ) میں یہ اِقرار بھی شامل ہے کہ یہ تسبیح اللہ ہی کی مدد اور اسی کی توفیق سے ممکن ہوئی ہے۔ اور یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بندے پر احسان ہے کہ اس نے بندے کے دل میں اپنے ذکر کا خیال پیدا کیا اور اس کی توفیق مرحمت فرمائی۔
تو جملہ «سبحان اللہ وبحمده» (پاک ہے اللہ تعالیٰ اپنی حمد وتعریف کے ساتھ) بیک وقت نفی اور اثبات پر مشتمل ہے، چنانچہ نفی سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور نقص سے پاک ماننا اور اثبات سے مراد اس کی صفاتِ کمال، اور حمد وثنا کو ثابت کرنا ہے۔
چنانچہ جس شخص نے یہ ذكر«سو دفعہ» کہا، چاہے اتنى بار اسے لگا تار کہا، یا وقفے وقفے سے۔ افضل یہ ہے کہ متواتر کہے، تاکہ نسیان یا مشغولیت آڑے نہ آجائے تو «قیامت کے دن کوئی اس کے عمل سے بہتر عمل لے کر حاضر نہیں ہوگا» یعنی کسی کو اُس جیسا اجر وثواب حاصل نہیں ہوگا اور نہ کوئی اُس سے فضیلت وعمل میں آگے بڑھ سکے گا، سوائے اس شخص کے جو اس ذکر میں اُس کے برابر ہو یا اُس نے یہ ذکر اس سے زیادہ پڑھ رکھا ہو تو وہ اس سے زیادہ اجر کا مستحق ہوگا۔
تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ فضیلت صرف ایک سو کے عدد میں محصور نہیں ہے، بلکہ جو زیادہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اُسے زیادہ فضل وثواب عطا فرمائے گا۔
اور ضروری ہے کہ اس ذکر کو صرف زبان تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ دل کی حاضری، اخلاص، ربِ جلیل وبلند کی تعظیم اور معانیِ تسبیح وحمد کے مکمل شعور کے ساتھ اسے پڑھا جائے، یہاں تک زبان دل کے ہم آہنگ ہوجائے اور بندہ قیامت کے دن بے پناہ اجر وثواب حاصل کرلے۔