بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیک! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے، لیکن میں اس کے لیے کوئی چیز نہیں پاتی کہ اسے دے سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «اگر تمھیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو، سوائے ایک جلے ہوئے کُھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں پکڑا دو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ام بُجید رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 27148)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1667)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 665) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2574) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1440) اور صحیح سنن نسائی (حدیث نمبر 2412)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اسلام نے معاشرے کے افراد میں باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی کفالت کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور صدقہ وخیرات کی ترغیب دی ہے، خواہ وہ کتنا ہی تھوڑا کیوں نہ ہو! تاکہ خیر پھیلے اور نیکی عام ہو۔ انھی میں سے ایک حدیث حضرت ام بُجید حواء انصاریہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہے کہ انھوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مسکین میرے دروازے پر آتا ہے، لیکن میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: «اگر تمھارے پاس اسے دینے کے لیے صرف بھنا ہوا کُھر ہی ہو ... الخ۔»
اس کے معنی یہ ہیں کہ اس معزز صحابیہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقہ دینے کی اپنی خواہش ظاہر کی، مگر تنگ دستی اور قلتِ وسائل کے باعث ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہدایت فرمائی کہ چاہے جلا ہوا کُھر ہی کیوں نہ ملے، وہی سائل کو دے دیا کرو! ’’ظِلف‘‘ یعنی کھراُس عضو کو کہتے ہیں جو گائے، بکری اور اس جیسے دیگر جانوروں کے لیے ویسے ہی ہوتا ہے جیسے انسان کے لیے قدم ہوتا ہے۔اور «محرَق» یعنی بھنا ہوا۔ ’’جلے ہوئے‘‘ کی قید کا مقصد یہ ہے کہ کچا کُھر بے فائدہ پھینک دیا جاتا ہے، مگر بھنے ہوئے کُھر سے پھربھى کچھ نہ کچھ فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلا ہوا کُھر بھی ان کے نزدیک بہت اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اہلِ عرب قحط کے زمانے میں اسے کوٹ کر سفوف بنالیتے اور اسے تناول کرکےپانی پی لیا کرتے تھے۔
چنانچہ جلے ہوئے کُھر کا ذکر، حالانکہ وہ پیٹ بھرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا، محض اس بات پر زور دینے کے لیے ہے کہ صدقہ خواہ کتنا ہی کم ہو، سائل کو خالی ہاتھ اور نامراد واپس نہ کیا جائے۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات کی ہدایت فرمائی کہ جو سائل کے دل کو خوش کرے اور اُس کے دل کی تسلی کا باعث بنے، چنانچہ فرمایا: «تو وہی اس کے ہاتھ میں پکڑا دو۔» یہ سائل کی عزت افزائی پر زور دینے اور اُس کے حق کی تعظیم کے طور پر فرمایا ہے، خواہ دی جانے والی چیز کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو!
اسی مفہوم میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے: «تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے (کسی بھی چیز کو تحفے کے طور پر دینے کے لیے) حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو!» یعنی خواہ کوئی معمولی سا حصہ ہی کیوں نہ ہو جو قابلِ ذکر بھی نہ ہو!


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔