«تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، اِلا کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1985) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1144) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
شریعت نے نفلی روزوں کی ترغیب دی ہے اور ان کا عظیم الشان اجر بیان فرمایا ہے، تاہم ان کی فضیلت کے باوجود بعض دنوں کو بغیر کسی شرعی سبب کے روزے کے لیے خاص کرنے سے منع کیا ہے۔ یہ فرمانِ نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام بھی اسی سے متعلق ہے کہ «تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے…» یعنی اس اکیلے دن کو روزے کے لیے مخصوص نہ کرے۔ اہلِ علم نے اس ممانعت کو حرمت کی بجائے کراہت (ناپسندیدگی) پر محمول کیا ہے اور یہ کراہت بھی اس وقت زائل ہوجاتی ہے جب اکیلے دن کے روزے کی صورت باقی نہ رہے۔ اور یہ دو صورتوں میں ہوتا ہے:
پہلی صورت یہ کہ جمعہ کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ رکھا جائے، جیسے جمعرات یا ہفتے کے دن کا روزہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «اِلا کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھے» سے یہی مقصود ہے۔
اور دوسری صورت یہ ہے کہ جمعہ کا دن کسی معمول کے روزے کے موافق ہوجائے، مثلاً: کوئی شخص ایک دن روزہ رکھتا اور ایک دن نہ رکھتا ہو، یا جمعہ کا دن عرفہ یا عاشوراء کے دن کے موافق آجائے، یا نذر کا روزہ ہو، جیسے کسی نے فلاں شخص کی آمد کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو اور اس کی آمد جمعہ کے دن ہوجائے تو اس صورت میں کوئی کراہت نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں جمعہ کے دن کو خاص کرنے کا قصد نہیں کیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس پر دلالت کرتا ہے: «دنوں میں سے صرف جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو…»۔
تنہا جمعہ کے دن روزه ركھنے كى ممانعت کے اندر یہ حکمت ہے کہ: جمعہ کا دن ایک جامع عبادت کا دن ہے جس میں ایسی اطاعتیں جمع ہوتی ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور دن میں جمع نہیں ہوتیں، جیسے: غسل کرنا، نماز کے لیے جلدی جانا، نماز کا انتظار کرنا، خطبہ سننا اور اس کے بعد بکثرت ذکر کرنا۔ تو بغیر سستی اور اُکتاہٹ کے ان تمام امور کی انجام دہی کے لیے روزہ نہ رکھنا زیادہ مددگار ہوتا ہے۔ جیسے حاجی کے لیے عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا مسنون ہے، تاکہ وہ اس دن کے اہم اعمال کی انجام دہی کے لیے قوت جمع رکھ سکے۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ ممانعت کی وجہ یہ ہو کہ جمعہ کا دن ہفتہ وار عید کا دن ہے، جبکہ عید شکر اور خوشی کا موقع ہوتی ہے، لہٰذا زیادہ مناسب یہی تھا کہ مسلمان اس دن روزے سے نہ ہو۔ اس معنی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوتی ہے: «جمعہ کا دن عید کا دن ہے، پس اپنی عید کے دن کو روزے کا دن نہ بناؤ…» اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: «جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو کیونکہ یہ کھانے پینے اور ذکر کا دن ہے۔»
اس پر یہ اشکال وارد نہیں ہوتا کہ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ ملا لینے سے کراہت تو زائل ہوجاتی ہے، لیکن وجہِ کراہت بہرحال باقی رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے ساتھ ایک اور دن ملالیا جائے تو اس اضافی عبادت کی فضیلت سے جمعہ کے دن کے اعمال میں واقع ہونے والى کمزورى يا كوتاہى پورى ہوجائے گى، چنانچہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے اور وہ وجہِ کراہت باقی نہیں رہتی جس کی بنا پر ممانعت وارد ہوئی تھی۔
اس حدیث مبارک میں جمعہ کے دن کی عظیم الشان فضیلت اور اس کے بلند مقام کی دلیل ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ عام دنوں کے مانند نہیں۔