«ہم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر میں) تھے۔ ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ میں وہ تھا جو اپنى چادر سے سایہ حاصل کررہاتھا۔ جو لوگ روزے سے تھے تو وہ (شدتِ تپش کی وجہ سے) کوئی کام نہ کرسکے، جبکہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا، انھوں نے سواریوں کو سنبھالا، مشقت اُٹھائی اور جہد وسعی کرتے رہے۔ اس پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج روزہ نہ رکھنے والے اجر سمیٹ گئے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 2890) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1119) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
جلیل القدر اعمالِ تقرب اور سب سے بڑے اسبابِ اجر میں سے ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچایا جائے، ان کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ضرورت کے وقت ان کی دلجوئی کی جائے، بالخصوص پریشانیوں کے مواقع پر، جیسے: سفر کى حالت اور مشقتوں کا وقت۔ اس پر وہ حدیث دلالت کرتی جسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ «ہم ایک سخت گرم دن میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے…» حتیٰ کہ اکثر لوگوں کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے اپنی چادر کے سوا کوئی سایہ نہ تھا، چنانچہ روزے دار خود کام کرنے سے نڈھال ہوگئے اور جنھوں نے روزہ نہیں رکھا تھا، وہ سواریوں کی دیکھ بھال اور لوگوں کی ضروریات میں بھاگ دوڑ کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «آج روزہ نہ رکھنے والے اجر سمیٹ گئے۔» اس لیے کہ انھوں نے روزہ نہ رکھ کر اپنے دشمن کے خلاف قوت جمع رکھی اور روزہ مکمل کروانے کے لیے اپنے ساتھیوں کی خدمت کی، چنانچہ نفع رساں ثابت ہوئے تو اس وجہ سے وہ زیادہ اجر وثواب کے مستحق ٹھہرے۔
اس فرمان میں روزہ داروں کے اجر کی کمی بیان نہیں ہوئی، بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ ضرورت کے وقت دوسروں کو فائدہ دینے والے کا اجر کس قدر عظیم الشان ہوتا ہے، برخلاف اس فائدے کے کہ جو اپنی ذات تک محدود ہو۔
حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اور یہ کہ اگر روزہ مشقت کا باعث بن جائے، یا کسی زیادہ نفع بخش یا زیادہ واجب کام کی ادائیگی میں رکاوٹ ہو تو اس وقت روزہ نہ رکھنا افضل ہوسکتا ہے۔