«جمعہ میں حاضر ہو اور امام کے قریب رہو کیونکہ آدمی جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے بھی پیچھے رہ جاتا ہے، حالانکہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت سَمُرہ بن جندب رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 20112) اور سنن ابوداود (حدیث نمبر 1108) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 200) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 365)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
جمعہ کا دن ایک عظیم الشان دن ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے ہفتہ وار عید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ایسے جامع صفات خطبے کے ساتھ مختص فرمایا ہے جس میں نصیحت وراہنمائی ہوتی ہے اور وہ دلوں کو اطاعتِ خداوندی کی طرف لاتا ہے۔ اسی بنا پر مسلمان کے لیے مشروع کیا گیا ہے کہ وہ اس کے لیے تیاری کرے، مسجد میں جلدی جائے اور امام کے قریب رہنے کی خوب کوشش کرے۔ سنتِ نبوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں اسی پر دلالت کرتی ہے: «جمعہ میں حاضر ہو اور امام کے قریب رہو۔» یعنی خطبۂ جمعہ اور نمازِ جمعہ میں حاضر ہو۔ یہ ہر اُس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ فرض ہے۔ اور جہاں تک ممکن ہو، امام کے قریب ہو کر بیٹھو، یعنی پہلی صفوں میں جگہ حاصل کرو، تاکہ تمھارے لیے خطبہ سننا اور اس سے استفادہ ممکن ہو۔ اور خطیب سے عمداً دُور نہ بیٹھو کیونکہ اس میں پہلی صفوں کی فضیلت سے محرومی ہے اور اجر میں کمی آتی ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں مسلسل پیچھے رہنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا: «کیونکہ آدمی جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے بھی پیچھے رہ جاتا ہے، حالانکہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔» یعنی جمعہ میں حاضری، امام کے قرب اور پہلی صفوں سے پیچھے رہنا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ آدمی سابقین کے ساتھ جنت میں داخل ہونے سے پیچھے رہ جائے، حالانکہ وہ اہلِ جنت میں سے ہوتا ہے۔ تو یوں وہ دخولِ جنت میں سبقت کی فضیلت اور بلند مقام سے محروم ہو جاتا ہے۔ جب یہ حال اُس شخص کا ہے جو امام سے دُور رہتا یا جمعہ کے لیے تاخیر سے آتا ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا جو سرے سے جمعہ ہی چھوڑدیتا ہے؟!
حدیث مبارک میں نمازِ جمعہ اور خطبۂ جمعہ میں حاضری کے وجوب کی دلیل ہے، جمعہ کے لیے مسجد میں جلدی آنے اور بلند مقاصد کے حصول کی ترغیب ہے اور غفلت وکوتاہی سے بچنے کی تنبیہ ہے جو محرومی اور فضل وثواب میں پیچھے رہ جانے کا سبب بنتی ہے۔