«ذکر میں حاضر ہو اور امام کے قریب رہو کیونکہ آدمی دُور ہوتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اسے جنت میں بھی پیچھے کردیا جائے گا، اگرچہ وہ اس میں داخل ہوجائے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت سَمُرہ بن جُندب رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 20118) اور سنن ابوداود (حدیث نمبر 1108) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 200) اور مشکاۃ المصابیح (حدیث نمبر 1391)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
خطبۂ جمعہ نہایت عظمتِ شان کا حامل ہے اور اسی لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں حاضر ہونے اور امام کے قریب بیٹھنے کی ترغیب دی ہے، تاکہ سناگیا خطبہ زیادہ یاد رہے اور اس سے بھرپور فائدہ حاصل ہو۔ اسی لیے فرمایا: «ذکر میں حاضر ہو۔» یعنی خطبۂ جمعہ میں حاضر ہو۔ خطبے کو ’’ذکر‘‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مبنی ہوتا ہے، جیسے: اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا، اس کی کتاب کی تلاوت، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام اور لوگوں کو ان کے دین ودنیا کے نفع بخش امور کی یاددہانی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ’’ذکر‘‘ کی طرف دوڑنے کا حکم اس فرمانِ باری تعالیٰ میں آیا ہے: ’’تم اللہ کے ذکر کی طرف لپکو۔‘‘ (الجمعۃ: ۹)
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے قریب بیٹھنے کی ترغیب دی تو فرمایا: «اور امام کے قریب رہو» یعنی حتی الامکان امام کے قریب رہو، تاکہ خطبہ مکمل طور پر سن سکو۔ اور بلاوجہ امام سے دُور نہ بیٹھو کیونکہ اس سے پہلی صفوں کی فضیلت سے محرومی ہوتی ہے اور خطبے سے حاصل ہونے والے فائدے میں بھی کمی آجاتی ہے، چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے سے ڈراتے ہوئے فرمایا: «کیونکہ آدمی دُور ہوتا رہتا ہے۔» یعنی قریب ہونے کی قدرت کے باوجود وہ امام سے دُوری اختیار کرنے کا عادی بن جاتا ہے اور پچھلی صفوں کو لازم پکڑ لیتا ہے۔ «حتیٰ کہ اسے جنت میں بھی پیچھے کردیا جائے گا۔» یعنی اُسے دخولِ جنت میں سبقت لے جانے والوں سے پیچھے رکھا جائے گا، یا درجاتِ جنت میں اسے پیچھے رکھا جائے گا۔
«اگرچہ وہ اس میں داخل ہوجائے۔» اس میں اس وہم کو دُور کیا گیا ہے کہ شاید پیچھے ہٹایا جانا اصلاً دخولِ جنت سے روکا جانا ہے، بلکہ مقصود کامل فضیلت اور بلند مرتبے کا رہ جانا ہے۔ اور جب یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو امام سے دُور رہتا ہے، یا جمعہ سے پیچھے رہتا ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا جو سرے سے جمعہ ترک کردیتا ہے؟!
حدیث مبارک میں خطبۂ جمعہ میں جلدی حاضر ہونے اور امام کے قریب بیٹھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور سستی وبے پروائی اور پیچھے ہٹنے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نیزیہ شرعی اصول بیان کیا گیا ہے کہ ’’جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے‘‘، چنانچہ جو شخص دنیا میں مقامِ طاعت سے پیچھے ہٹا، وہ مقامِ جزا میں بھی پیچھے کردیا جائے گا۔