جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر عورتوں؛ نوجوان لڑکیوں، حیض والیوں اور پردہ نشین عورتوں کو نکالیں۔ البتہ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں گی، تاکہ خیر وبرکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے کسی کے پاس پردے کی چادر نہیں ہوتی؟ فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی پردے کی چادر میں سے اوڑھا دے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت اُم عطیہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 1652) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 890) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 نمازِ عید شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں شعار ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے اور لوگوں کو اس میں شرکت کی ترغیب دیتے تھے کیونکہ اس میں دین اور ذکر ودعا کے لیے مسلمانوں کے اجتماع کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی اہتمام کا تقاضہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بھی ان کے مختلف احوال کے باوجود عیدگاہ جانے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ حضرت اُم عطیہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں کہا ہے کہ «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر عورتوں؛ نوجوان لڑکیوں، حیض والیوں اور پردہ نشین عورتوں کو نکالیں۔» یعنی تمام عورتوں کو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’عواتق‘‘ یعنی وہ نوجوان لڑکیاں جو ابھی سنِ بلوغ کو پہنچی ہوں اور ’’ذواتُ الخدور‘‘ یعنی وہ کنواریاں جو عموماً گھروں میں رہتی ہیں اور باہر کم ہی نکلتی ہیں، کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ تاکیداً اس حکم کی عمومیت واضح ہوجائے کہ یہ حکم صرف اُن عورتوں کے لیے مختص نہیں ہے جو باہر آتی جاتی رہتی ہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید تاکید یوں فرمادی کہ حیض والی عورتوں کو بھی ساتھ لانے کا حکم دیا، حالانکہ وہ نماز ادا نہیں کرسکتیں۔ اس کی وضاحت اپنے اس فرمان سے یوں فرمائی کہ «البتہ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں گی۔» یعنی وہ خود نماز سے الگ رہیں گی کیونکہ حائضہ عورت نماز نہیں پڑھ سکتی، لیکن وہ اجتماع کی جگہ پر حاضر ہوں گی اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «تاکہ خیر وبرکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکیں۔» یعنی وہ ذکر ودعا اور مسلمانوں کے اجتماع کی برکت میں شریک ہوں، تاکہ انھیں بھی وہی خیر نصیب ہو جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہوتی ہے۔
جب حضرت اُم عطیہ رضی اللہ عنہا نے اشکال پیش کیا کہ اگر کسی عورت کے پاس پردے کی چادر نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ اسے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتون کے لیے گھر سے باہر نہ نکلنے کا عذر نہیں بننے دیا، بلکہ فرمایا: «اس کی بہن اسے اپنی پردے کی چادر میں سے اوڑھا دے۔» اس فرمان میں اس شعار میں حاضری کی تاکیدی اہمیت اور اعمالِ خیر پر باہمی تعاون کی ترغیب ہے۔
’’جلباب‘‘ سے مراد وہ کشادہ چادر یا لباس ہے جو پورے بدن کو ڈھانپ لے۔
اور عورتوں کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ خوشبو لگائے، زینت کی نمائش اور مَردوں کے ساتھ اختلاط کیے بغیر وقار وحیا کے ساتھ نکلیں۔
حدیث مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ عیدین کی نماز اور خیر کے اجتماعات میں خواتین کا شریک ہونا مستحب ہے، خواہ خاتون نماز کی مکلف نہ بھی ہو، جیسے حائضہ عورت ہے کیونکہ اصل مقصد تو مسلمانوں کے اجتماع کو بڑھانا، شعائرِ اسلام کا اظہار اور اس عظیم الشان دن کی برکت سمیٹنا ہے، تاہم یہ سب کچھ شرعی پردے کے التزام، ترکِ زینت وخوشبو اور مَردوں سے اختلاط سے اجتناب کرتے ہوئے کرنا ہوگا، تاکہ خیر میں حاضری کے ساتھ ساتھ ادب اور حیا بھی محفوظ رہیں۔
مزید برآں اس حدیث میں ایک دوسرے سے ہمدردی اور معاملاتِ خیر میں باہمی تعاون کی ترغیب ہے۔
علاوہ ازیں حدیث مبارک سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیکی کے کاموں کے لیے کپڑے عاریتاً لینا جائز ہے۔ اسی طرح یہ بھی پتا چلا کہ اُس دور میں تنگ دستی کا کیا عالَم تھا کہ بعض عورتوں کے پاس نماز کی ادائیگی کی غرض سے باہر نکلنے کے لیے پردے کی چادر تک موجود نہ تھی!


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔