«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو دونوں عیدوں میں نکلنے کا حکم دیا کرتے تھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 2054)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1309) اور مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 5784) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4888) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2115)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
نمازِ عید شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں شعار ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعظیم فرماتے اور اس میں حاضر ہونے کی ترغیب دیتے تھے کیونکہ یہ اجتماع اور ذکر وبرکت کا مقام ہے جس کا نفع مَردوں اور عورتوں، سب کو پہنچتا ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب کو اس کے لیے نکلنے کا حکم دیتے تھے، حتیٰ کہ اپنے اہلِ بیت کو بھی، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہیں: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو دونوں عیدوں میں نکلنے کا حکم دیا کرتے تھے۔» یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن عیدگاہ کی طرف، تاکہ وہ بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازِ عیدین کے لیے عورتوں کا نکلنا مشروع ہے۔ یہ حکم جوان وغیرجوان، سب عورتوں کے لیے ہے، بلکہ حائضہ عورتیں بھی خیر میں موجود رہنے کے لئے نکلیں، البتہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں، جیساکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: «حائضہ عورتیں نماز سے الگ رہیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔» البتہ ان کا نکلنا سادہ کپڑوں میں ہو، خوشبو لگانے اور اظہارِ زینت کے بغیر ہو، دوسروں کے اور خود ان کے مبتلائے فتنہ ہونے کا اندیشہ نہ ہو، تاکہ شریعت کا مقصد پورا ہو کہ خیر میں حاضری بھی ہو اور اخلاق کی حفاظت بھی باقی رہے۔