«بلاشبہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار کرتے تو ابتدا کھجور سے فرمایا کرتے تھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 3304) اور معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 5517) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4892) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2117)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
کھجور اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ہے۔ یہ بابرکت غذا ہے جسے لوگ خوراک اور دوا کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت کھجور سے آغاز کا اہتمام فرماتے تھے؛ جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «بلاشبہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار کرتے تو ابتدا کھجور سے فرمایا کرتے تھے۔» یعنی افطاری میں کھجور کو دیگر اشیاء پر مقدم رکھتے تھے۔
اہلِ علم نے کھجور سے ابتدا کرنے کی چند حکمتیں بیان کی ہیں، مثلاً: کھجور ایک بابرکت غذا ہے جو بھوک کی شدت کو دُور کرتی ہے اور روزے کی وجہ سے کمزور ہونے والے بدن کی توانائی بحال کرتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھجور اپنی مٹھاس سے دل میں لطافت پیدا کرتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زود ہضم اور فوری اثر رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔
حدیث مبارک میں افطار کے وقت کھجور سے ابتدا کرنے کے استحباب کا بیان ہے۔ اسی طرح اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال وکیفیات کی پیروی نہایت دقیق نظری سے کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ مبارک کو تمام تر دقیق تفاصیل کے ساتھ نقل کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔