جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں بچھو نے ڈنک مار دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ بچھو پر لعنت کرے، یہ نہ نمازی کو چھوڑتا ہے اور نہ غیرنمازی کو۔ اسے ’’حِلّ‘‘ (حدودِ حرم سے باہر) اور ’’حرم‘‘ میں (حدودِ حرم کے اندر) مار ڈالو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1246) اور معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 7329) میں مروی ہے۔
اسی مفہوم کے ساتھ بروایت حضرت علی رضی اللہ عنہ معجم صغیر طبرانی (حدیث نمبر 830) اور مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 23553) میں بھی مروی ہے۔
اس میں یہ اضافہ ہے: «پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا، اسے ایک برتن میں رکھا، پھرآپ اسےاپنى انگلى کے اس حصے پر ڈالنے لگے جہاں بچھو نے ڈسا تھا اور اس پر ہاتھ پھیرتے اور معوِّذتین (آخری دو قل، یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس) پڑھ کر اسے دم کرتے تھے۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5098) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 547)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے۔ انھیں بھی وہی اذیت پہنچتی تھی جو لوگوں کو پہنچتی ہے۔ اس حدیث مبارک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں ایک بچھو نے ڈنک مارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دُور کرنے کی بددُعا کرتے ہوئے فرمایا: «اللہ بچھو پر لعنت کرے۔» ایسا اس لیے فرمایا کیونکہ اس (کی فطرت) میں اذیت اور خباثت ہے، چنانچہ وہ کسی کو تکلیف دینے سے باز نہیں آتا، خواہ وہ نمازی ہو یا غیرنمازی، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یہ نہ نمازی کو چھوڑتا ہے اور نہ غیر نمازی کو۔» پھر فرمایا: «اسے ’’حِل‘‘ اور ’’حرم‘‘ میں مار ڈالو۔» یعنی خواہ انسان اِحرام کی حالت میں ہو یا غیراحرام میں ہو اور خواہ حدودِ حرم کے اندر ہو یا حدودِ حرم سے باہر۔ اسے اس کے شدید ضرر کی بنا پر بہرصورت قتل کیا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ نماز کی حالت میں بھی اسے مارڈالنا مشروع ہے، بشرط کہ قلیل حرکت سے اسے مارنا ممکن ہو۔ اور اگر زیادہ حرکت کی ضرورت ہو تو اس کے ضرر سے بچنے کے لیے نماز توڑ دے۔ اس کی تائید اس فرمانِ نبوی سے ہوتی ہے: « ان دو سیاہ چیزوں کو نماز میں بھی مار ڈالو: سانپ اور بچھو۔» دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا، اسے ڈسی ہوئی جگہ پر ڈالا اور معوِّذتین (آخری دو قل) پڑھنے لگے۔
حدیث مبارک انسانی جان کی حفاظت پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ ضرر وتکلیف کو دُور کرنا سب سے مقدم ہے۔ شریعت نے بندوں کے فائدہ ومصلحت کا پورا لحاظ کیا ہے، حتیٰ کہ عبادت کی حالت میں بھی پوری رعایت رکھی ہے۔
حدیث میں یہ بھی ہے کہ موذی چیزوں پر لعنت کرنا جائز ہے، خواہ وہ بنی آدم ہی میں سے ہوں، لیکن کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں۔
اسی طرح اس حدیث سے علاج معالجے کے مشروع ہونے اور حسی اور شرعی اسباب کو یکجا کرنے کا ثبوت بھی ملتا ہے، جیساکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور نمک کے ذریعے علاج اور معوِّذتین (آخری دو قل) کے ساتھ دم کو یکجا کرکے ثابت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے ہوئے مادی اسباب اختیار کرنا بالکل درست ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔