«جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اُس کے ہاتھ میں ہو تو برتن نہ رکھے، یہاں تک کہ اُس میں سے اپنی ضرورت پوری کر لے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 10629)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2350) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 729) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 607) اور صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 2035)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
روزہ ایک عظیم الشان عبادت ہے جو نظم وضبط اور اتباعِ سنت پر اُستوار ہے۔ مقاصدِ روزہ کی تکمیل کے لیے روزے کے ابتدائے وقت اور مفطرات (روزہ توڑنے والی چیزوں) سے رُکنے سے متعلق اُمور کی معرفت ضروری ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اُس کے ہاتھ میں ہو تو برتن نہ رکھے، یہاں تک کہ اُس میں سے اپنی ضرورت پوری کر لے۔»
علماء کا اس بابت اختلاف ہے کہ یہاں ’’نداء‘‘ سے کیا مراد ہے، چنانچہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد پانچ نمازوں کی عمومی اذان ہے، لہٰذا جب بندہ نماز کی اذان سنے تو اپنا کھانا پینا مکمل کر لے، پھر نماز کے لیے جائے، خواہ پہلی جماعت رہ جائے۔ اور کہا گیا ہے (اور یہی اقرب الی الصواب بھی ہے) کہ اس سے مراد فجر کی اذان ہے کیونکہ اسی کا تعلق احکامِ امساک (مفطراتِ صوم سے رک جانے) سے ہے، چنانچہ جب فجر کی اذان دی جائے اور بندہ اپنی سحری کھا پی رہا ہو تو اسے اجازت ہے کہ وہ اسے مکمل کرے اور اپنی ضرورت پوری کر لے، البتہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جسے طلوعِ فجر کا یقین نہ ہو، لیکن اگر اسے طلوعِ فجر کا علم یقینی طور پر ہو تو پھر اس کے لیے کھاتے پیتے رہنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور تم کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ تمھارے لیے فجر کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہوجائے۔‘‘ (البقرۃ: 187)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس نے پینا شروع ہی کیا تھا کہ اذان سن لی تو وہ اپنا وہی گھونٹ پورا کرے گا اور نئے سرے سے پینا نہیں شروع کرے گا۔ یہ اُن مسائل میں سے ہے جن میں جاری عمل کو برقرار رکھنے کی حد تک تو گنجائش ہے، مگر اسے نئے سرے سے شروع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
حدیث مبارک میں سحری کی مشروعیت کی دلیل ہے۔ اسی طرح اِمساک (مفطرات سے رکنا) طلوعِ فجر کے یقینی ثبوت سے ہوگا۔ اگر اذان طلوعِ فجر کے عین مطابق نہ ہو تو اس صورت میں محض اذان سن لینے سے اِمساک نہیں ہوگا۔