«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے: یومِ فطر (عیدالفطر) اور یومِ نحر (عید الاضحی)۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1991) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1138) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) شعائرِ اسلام میں سے عظیم الشان شعار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عیدین میں اظہارِ خوشی ومسرت اور اپنی نعمت کی تکمیل پر ادائے شکر مشروع فرمایا ہے۔ اس کی تکمیل یوں ہوتی ہے کہ عیدین کے دو دنوں، یعنی یومِ فطر (عیدالفطر) اور یومِ نحر (عیدالاضحی) میں روزہ رکھنا حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ’’یومِ فطر‘‘ سے مراد ماہِ شوال کا پہلا دن ہے اور یومِ نحر سے مراد ذوالحجہ کا دسواں دن ہے۔
جس نے ان ایام کا روزہ رکھ بھی لیا تو اس کا روزہ سرے سے ہوگا ہی نہیں، خواہ قضائے رمضان کا روزہ ہو، نذر کا ہو، بطورِ کفارہ ہو یا کوئی عام نفلی روزہ۔
ان ایام میں روزے کی ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ ان دنوں میں الله سبحانہ وتعالى كى نعمتوں کے اظہار کے لیے کھانا پینا مشروع کیا گیا ہے، چنانچہ یومِ نحر میں عام قربانیوں اور نسک (حج کی قربانیوں) کا گوشت کھا کر اظہارِ شکر اور یومِ فطر میں رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد روزہ نہ رکھ کر فرحت ومسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ہے، چنانچہ یومِ اضحی میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو اور یومِ فطر تمھارے روزوں کے بعد روزہ نہ رکھنے کا دن ہے۔ » نیز اگر لوگ عیدالفطر کے دن بھی روزہ رکھنے لگیں تو ماہِ رمضان کا آخر اور ماہِ شوال کا آغاز باہم خلط ملط ہوجائیں گے اور روزے رکھنے اور نہ رکھنے کے دور میں امتیاز باقی نہیں رہے گا، جبکہ شریعت مختلف اَدوار اور احکام کے مابین واضح فرق قائم کرنے والی ہے۔
ایامِ تشریق بھی ان دو دنوں کی طرح اس حرمت میں شامل ہیں کیونکہ وہ کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔ البتہ ان ایام میں اُس شخص کے لیے روزہ رکھنے کی اجازت ہے جس کے پاس ’’ہدی‘‘ (حج کی قربانی) نہ ہو، بخلاف یومِ فطر اور یومِ نحر کے کہ ان دونوں میں کسی حال میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔