«نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (عیدگاہ کی طرف) ایک راستے سے جاتے تو واپسی دوسرے راستے سے فرماتے تھے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 8454)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 541) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1301) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4710) اور مشکاۃ المصابیح (حدیث نمبر 1447)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن نمازِ عید کے لیے نکلنا شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں شعار ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنے رب تعالیٰ کی اطاعت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اپنی باہمی وحدت ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دین کے شعائر کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔ اس نماز کی کچھ سنتیں اور آداب ہیں جن کی پابندی مستحب ہے۔ انھی میں سے ایک راستے کی تبدیلی بھی ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ایک راستے سے نکلتے تو واپسی دوسرے راستے سے فرماتے تھے۔»
علماء نے اس کی حکمت میں متعدد وجوہات بیان کی ہیں، چنانچہ کہا گیا ہے: مقصد یہ ہے کہ شعائرِ اسلام زیادہ سے زیادہ مقامات پر ظاہر ہوں اور شہر کے مختلف حصوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر پھیلے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں راستے قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دیں گے، یا دونوں راستوں پر آباد لوگوں کو وہ سلام کرے گا، یا ان کی ضروریات پوری کرے گا، یا ان کے فقراء پر صدقہ کرے گا۔ ان کے علاوہ دیگر اقوال بھی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ عیدین میں راستہ بدلنا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ ثابتہ ہے، خواہ اس کی حکمت معلوم ہو یا نہ ہو۔ حدیث مبارک میں نمازِ عید کے لیے نکلنے کی مشروعیت اور افعال کی چھوٹی سی چھوٹی جزئی اور اس کی ہیئت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کے مستحب ہونے کی دلیل ہے۔