«ہر مہینے تین دن کے روزے صیامِ دہر (زمانہ بھر کے روزوں کے برابر) ہیں۔ اور ایامِ بیض تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کی صبحیں ہیں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سنن نسائی (حدیث نمبر 2420)، مسند ابویعلیٰ (حدیث نمبر 7504)، معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 7550)، معجم صغیر طبرانی (حدیث نمبر 913)، معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 2499) اور شعب الایمان بیہقی (حدیث نمبر 3570) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3849) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1040)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نیکی کے دروازوں (میں داخل ہونے) کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ انھی ترغیبات میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مہینے میں تین دن کے روزوں کی پابندی کی جائے کیونکہ ان روزوں کا اجر وثواب عظیم الشان ہے۔
فرمانِ نبوی «ہر مہینے تین دن کے روزے صیامِ دہر (زمانہ بھر کے روزوں کے برابر) ہیں» یعنی ہر مہینے تین روزے رکھنا پورے مہینے کے روزوں کے برابر ہے کیونکہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا دیا جاتا ہے، چنانچہ ایک دن دس دن کے برابر اور تین دن تیس دن کے برابر ہوئے اور ایک مہینے کی مقدار یہی ہوتی ہے۔ اس لیے جو شخص زندگی بھر اس معمول کو قائم رکھے، وہ گویا زمانہ بھر کے روزے رکھنے والا ہے۔ «اور ایامِ بیض تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کی صبحیں ہیں» یعنی ہر قمری مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کی ’’بِیض (سفید وروشن) راتوں‘‘ کے دن۔ انھیں ’’ایامِ بیض‘‘ (بِیض کے دن) اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی راتیں چاند کی کامل روشنی سے خوب روشن ہوتی ہیں۔
البتہ تیرہ ذوالحجہ کا دن اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ ان ’’ایامِ تشریق‘‘ میں شامل ہے جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
ایامِ بیض کے روزوں کی متعدد حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی روشن راتوں میں عبادت کرنا نور کی ہمہ گیری کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے (کہ دین سراپا نور ہے)، یا یہ کہ کامل روشنی کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا مقصود ہے۔ ان کے علاوہ اور حکمتیں بھی بیان کی گئی ہیں، تاہم یہ سب ممکنہ حکمتیں ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنا ایک عمومی سنت ہے، خواہ ایامِ بیض میں رکھے جائیں یا کسی اور دن، البتہ افضل یہی ہے کہ ایامِ بیض میں رکھے جائیں۔
چنانچہ اگر کوئی سفر، بیماری، حیض، یا نفاس وغیرہ جیسے کسی عذر کی بنا پر ان تین دنوں میں روزہ نہ رکھ سکے تو وہ مہینے میں کسی بھی وقت تین دنوں کے روزے رکھ کر یہی اجر حاصل کرسکتا ہے۔
حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کی وسعت کا بیان ہے کہ وہ قلیل عمل پر بھی بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔ نیز اس میں یہ راہنمائی بھی ہے کہ پابندی کے ساتھ کیا گیا قلیل عمل تعطل کے ساتھ کیے گئے کثیر عمل سے زیادہ اثر پذیر اور پائیدار ثواب کا باعث بنتا ہے ۔