«جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور (اس دوران) نہ فحش کلامی کی اور نہ فسق وفجور کیا، وہ اس دن کی طرح واپس ہوگا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1819) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1350) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
حج ارکانِ اسلام میں سے ایک عظیم الشان رکن اور اس کی علامات میں سے ایک نمایاں علامت ہے۔ اس کی کچھ شرائط، ارکان اور آداب ہیں جنھیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور کچھ ممنوعات ہیں جن سے بچنا واجب ہے، تاکہ حج بن جائے حجِ مبرور اور اجر ملے بھرپور۔
فرمانِ نبوی «جس نے اللہ کے لیے حج کیا» یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے اِخلاص کے ساتھ۔ اپنے حج کے ذریعے اس کا اِرادہ نہ ریا ودکھلاوے کا ہو، نہ شہرت طلبی ہو اور نہ کوئی دنیوی فائدہ مقصود ہو۔ «تو (اس دوران) فحش کلامی نہ کی۔» ’’رفث‘‘ سے مراد جماع ہے۔ اور یہ لفظ جماع کی طرف اشارہ کرنے اور فحش کلامی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ فرمانِ نبوی «اور فسق وفجور نہ کیا۔» ’’فسق‘‘ کہتے ہیں گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے کو، وہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ۔ اس میں گالم گلوچ، سب وشتم، دھوکا دہی، چوری چکاری اور ہر طرح کی حرام گفتگو شامل ہے۔ تو جو شخص ان امور سے بچتے ہوئے حج كو ادا کرے گا تو «وہ اس دن کی طرح واپس ہوگا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔» یعنی اپنی اُس حالت کے مشابہ گناہوں سے خالی ہوکر لوٹتا ہے جب وہ پیدا ہوا تھا اور گناہوں سے پاک صاف تھا۔ یہ فضیلت اس وقت حاصل ہوگی جب اس نے حج کرتے ہوئے حج کی تمام شرائط کو مکمل کیا ہو، چنانچہ ایسی صورت میں حج اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔ فسق وفجور تو ہمہ وقت حرام ہے، لیکن خاص طور پر حج کے دوران اس کی نفی اس لیے کی گئی ہے کہ اس عظیم الشان موقع پر اس کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے۔ علاوہ ازیں لوگوں کا کسی ایک جگہ اکھٹے ہونا شرعی خلاف ورزیوں اور لغزشوں، بالخصوص شہوت پرستی اور فحش کلامی سے متعلق اُمور میں مبتلا ہونے کا موقع ہوسکتا ہے، اس لیے اسے صراحتاً بیان کیا گیا ہے۔
حدیث مبارک میں حج کی عظیم الشان فضیلت واہمیت اور حج میں خلوصِ نیت کے وجوب کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں ایسا حج جس میں اس کی تمام شرائط کو پورا کیا گیا ہو، وہ صغیرہ اور کبیرہ، تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، البتہ گناہوں کا تعلق اگر حقوق العباد سے ہو تو ان کی معافی کے لیے توبہ کے ساتھ ساتھ حق داروں کو ان کے حقوق واپس کرنا بھی ضروری ہے۔