حضرت اُم معقل اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے ان کا ایک جوان اونٹ فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) وقف کر دیا تھا۔ حضرت اُم معقل رضی اللہ عنہا نے عمرے کا ارادہ کیا تو اپنے شوہر سے وہ اونٹ مانگا، مگر انھوں نے انکار کردیا۔ وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا واقعہ عرض کیا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ انھیں دے دیں اور فرمایا: «حج اور عمرہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ میں شامل ہیں۔ اور مزید فرمایا: رمضان میں عمرہ ایک حج کے برابر ہے۔ یا یہ فرمایا: ایک حج سے کفایت کرتا ہے۔ (راویِ حدیث) حجاج ’’تعدل حجۃ أو تجزئ حجۃ‘‘ کی بجائے یہ الفاظ بیان کرتے ہیں: تعدل بحجۃ أو تجزئ بحجۃ۔ (معنی دونوں کے ایک ہیں)۔»
یہ حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 27286)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 3075) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1774) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1599)۔ اِرواء الغلیل (حدیث نمبر 869) میں لکھا ہے: یہ حدیث ’’عمرہ‘‘ کے ذکر کے بغیر صحیح ہے، جبکہ ’’عمرہ‘‘ کے ذکر کے ساتھ شاذ (ضعیف) ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث مبارک نیکی کے دروازوں کی عظمت پر دلالت کرتی ہے جن میں سے ایک عمرہ ہے، بالخصوص ماہِ رمضان میں کیا گیا عمرہ کیونکہ اس مہینے میں عمرے کا اَجر اس قدر بڑھتا ہے کہ وہ ثواب میں حج کے برابر ہوجاتا ہے۔
اس حدیث میں حضرت ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں وقف کیا تھا، یعنی اطاعت اور جہاد کے کاموں کے لیے مختص کیا تھا۔ جب انھوں نے عمرے کا ارادہ کیا تو اپنے شوہر سے کہا کہ وہ اونٹ انھیں دے دیں۔ ان کے شوہر نے یہ سمجھتے ہوئے انکار کردیا کہ جو چیز اللہ کی راہ کے لیے وقف کردی گئی ہو، اسے حج یا عمرے میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ تو وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا معاملہ گوش گزار کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرماتے ہوئے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ انھیں دے دیں کہ حج اور عمرہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ میں داخل ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام معقل رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ «رمضان میں عمرہ ایک حج کے برابر ہے۔» ایک روایت میں یوں ہے: «میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔» یعنی جس نے رمضان میں عمرہ کیا، اُسے حج کرنے والے کا اجر وثواب ملے گا۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ اس سے فریضۂ حج ساقط ہوجائے گا۔ رمضان میں عمرے کا اجر اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ یہ وقت ہی شرف وفضیلت والا ہے، چنانچہ جب عبادت کسی فضیلت والے وقت میں ادا کی جائے تو اس کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔
حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حج اور عمرہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ میں شامل ہیں، رمضان میں عمرے کی بڑی فضیلت ہے اور وقت کی فضیلت عبادت کے اجر وثواب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح حدیث مبارک اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کی وسعت واضح کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو بڑھا چڑھا کر اجر عطا فرماتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مال یا سواری کو نیکی کے کاموں کے لیے مختص کرنا جائز ہے۔