جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سِنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «تمھیں حج سے کس چیز نے روکا؟» انھوں نے عرض کی: ابوفلاں، یعنی ان کے شوہر کے پاس پانی لانے والے دو اونٹ تھے؛ ایک پر وہ حج کے لیے چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین کو سیراب کرنے کے لیے تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رمضان میں عمرہ ایک حج کے برابر ہے، یا میرے ساتھ ایک حج کے برابر ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 1863) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1256) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
اور صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وہ (عمرہ) ایک حج کے برابر ہے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ نہایت عنایت وتوجہ کا تعلق رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خبر گیری کرتے، ان کے احوال دریافت کرتے اور ان کے معاملات پر نظر رکھتے تھے، بالخصوص ان کی عبادات کے معاملے میں دلچسپی کا اظہار فرمایا کرتے تھے، چنانچہ ان کی کوتاہی یا کسی عبادت سے پیچھے رہ جانے کے اسباب پوچھتے، تاکہ انھیں اطاعت کی ترغیب دیں اور مواسمِ خیر سے فائدہ اُٹھانے کے لیے انھیں مستعد کریں۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امِ سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا: «تمھیں حج سے کس چیز نے روکا؟» یعنی کیا رکاوٹ بنی کہ تم ہمارے ساتھ نہیں تھیں؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد وخواتین، سب کے لیے حج کا اعلانِ عام فرمایا تھا۔
حضرت ام سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا نے عذر پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ میرے شوہر کے پاس پانی لانے والے دو اونٹ تھے؛ ایک پر وہ حج کے لیے چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین کو سیراب کرنے کے لیے تھا، اس لیے میرے پاس کوئی سواری موجود نہیں تھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دلجوئی فرماتے ہوئے اور نیکی کی رغبت دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: «بلاشبہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔» اور ایک روایت میں یوں ہے: «میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔» یعنی وہ عمرہ اجر وثواب میں حج کے برابر ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ عمرہ فریضۂ حج کے قائم مقام ہوگا، بلکہ یہ تو اجر کی عظمت بیان کرنے اور فضلِ باری تعالیٰ سے فائدہ اُٹھانے کی ترغیب دینے کے لیے ہے۔
رمضان میں عمرے کا ثواب اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ یہ وقت شرف وفضیلت والا ہے، چنانچہ جب کسی فضیلت والے وقت میں نیکی کی جائے تو اس کا ثواب بھی بڑھ جاتا ہے۔
حدیث مبارک میں ماہِ رمضان کے عمرے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اور اس میں یہ بھی بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا اس امت پر فضل کتنا وسیع ہے کہ اس نے معمولی اعمال پر بھی اُمت کے لیے اجر وثواب کئی گنا بڑھا دیا اور اس کے لیے فضیلت والے موسموں کے دروازے کھول دیے، تاکہ وہ انھیں غنیمت جانے، اپنی اطاعت کے ذریعے بلند درجے حاصل کرے اور اس کی عظیم الشان عطا سے کامیاب ہوجائے۔
اسی طرح حدیث مبارک میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی خبرگیری کی شدید خواہش رکھتے اور سوال وراہنمائی کے ذریعے ان کے حالات معلوم کیا کرتے تھے۔