بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

حضرت ابو رَزِین عُقیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے والد بلاشبہ بہت بوڑھے ہیں۔ وہ نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں، نہ عمرے کی اور نہ سفر کی۔ فرمایا: «اپنے والد کی طرف سے حج کرو اور عمرہ کرو۔»


یہ حدیث سنن ابوداود (حدیث نمبر 1810) میں مروی ہے، مذکورہ الفاظ اسی کے ہیں۔
اسی طرح مسند احمد (حدیث نمبر 16190)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 930) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2637) میں بایں الفاظ مروی ہے: «اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔» (پہلی روایت میں ’’اُحْجُجْ‘‘ اور دوسری روایت میں ’’حُجَّ‘‘ کے الفاظ ہیں)۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 188 ، 3127) اور صحیح سنن نسائی (حدیث نمبر 2473)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینی اُمور سیکھنے کی شدید خواہش رکھتے تھے اور پیش آمدہ مسائل کی بابت نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کرتے رہتے تھے، چنانچہ حضرت ابورَزِین عُقیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے والد بلاشبہ بہت بوڑھے ہیں، یعنی وہ بڑھاپے کی اُس عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ پیدل یا سوار ہو کر حج یا عمرے کے لیے سفر کی بالکل طاقت نہیں رکھتے۔ [ (حديث میں وارد لفظ)«ولا الظَّعن» کے یہی معنی ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ راہنمائی فرمائی کہ وہ خود اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرلیں۔
تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایسے زندہ شخص کی طرف سے نیابت (حجِ بدل) جائز ہے جو دائمی طور پر لاچار ہو، جیسے کہ انتہائی ضعیف العمر شخص، یا ایسا مریض جس کے شفایاب ہونے کی اُمید نہ ہو۔ لیکن یہ مطلق اجازت حضرت شبرمہ رضی اللہ عنہ کے واقعے والی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے مقید ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شبرمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: «پہلے اپنی طرف سے حج ادا کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو۔» تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ كسى شخص كا كسى اور كى طرف سے حج کرنا صرف بایں صورت درست ہوسکتا ہے جب اس شخص نے پہلے اپنا فریضۂ حج ادا کر لیا ہو۔
لہٰذا نیابت کی دو بنیادی شرائط ہیں: پہلی یہ کہ منوب عنہ (جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہو) دائمی طور پر لاچار ہو، جیسے انتہائی ضیعف العمر شخص، یا ایسا مریض ہو جس کی شفایابی کی کوئی اُمید نہ ہو۔ دوسری یہ کہ نائب (حجِ بدل کرنے والا) اپنا فریضۂ حج پہلے ادا کرچکا ہو۔
بعض اہلِ علم نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ عمرہ بھی واجب ہے۔ لیکن اس موقف کے مطابق بھی عمرہ حج کے برابر نہیں کیونکہ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے۔
حدیث مبارک میں والدین کے ساتھ بھلائی کی ایک منفرد صورت بیان ہوئی ہے اور بڑھاپے کے بعد بھی انھیں نفع پہنچانے کی شدید خواہش کا ذکر ہے۔ اسی طرح شریعت کی نرمی اور آسانی بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے مکلّفین کے لیے سہولت پیدا کرتی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔