جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے فجر کا سفید دھاگا خوب ظاہر ہوجائے۔‘‘ (البقرۃ: 187) تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: «یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے تکیے کے نیچے دو ڈوریاں رکھ لیتا ہوں؛ ایک سفید ڈورى اور ایک سیاہ ڈورى، تاکہ رات اور دن میں فرق کرسکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا تکیہ تو بہت چوڑا ہے! اس سے تو رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1916) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1090) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں: «تو میں رات میں دیکھنے لگا تو میرے لیے واضح نہ ہوا...»
حدیث کی مختصر وضاحت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن وسنت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے بے حد مشتاق تھے۔ اگر انھیں کسی معاملے میں اشکال درپیش ہوتا تو وضاحت کے لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے، چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’اور تم کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے فجر کا سفید دھاگا خوب ظاہر ہوجائے۔‘‘ (البقرۃ: 187) تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو رسیاں؛ ایک سفید اور ایک سیاہ رکھ لیں، تاکہ ان کے ذریعے رات اور دن کا فرق معلوم کرسکوں۔
’’عِقالان‘‘ سے مراد دو دھاگے یا دو رسیاں ہیں جنھیں انھوں نے اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا اور وہ بستر پر لیٹے ہوئے ان کی طرف دیکھتے رہے، تاکہ ان کے ذریعے رات کے ختم ہونے اور دن کے آغاز کو پہچان سکیں۔ بعض روایات میں ہے: «میں نے دو دھاگے لے لیے۔» یہ ’’عِقالان‘‘ کی وضاحت ہے۔ پھر جب فجر طلوع ہوئی تو انھوں نے دونوں دھاگوں کی طرف دیکھا، مگر انھیں سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے الگ نظر نہ آیا۔ یہ (حديث میں وارد لفظ) «فلا یستبین لی» (تو میرے لیے واضح نہ ہوسکا) کے معنی ہیں کیونکہ رات کی تاریکی باقی تھی۔ پھر صبح کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جو کچھ بیتا تھا، کہہ سنایا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل پر متعجب ہوکر مسکرا دیے، پھر فرمایا: «تمھارا تکیہ تو بہت چوڑا ہے۔ اس سے مراد تو رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔» یعنی اس سے دو حقیقی دھاگے مراد نہیں، بلکہ رات کی تاریکی اور دن کی روشنی مراد ہے، یعنی فجرِ صادق کا ظاہر ہونا جس کے ساتھ روزے اور نماز کے احکام تعلق رکھتے ہیں۔
حدیث مبارک میں یہ بیان ہوا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم منزل من اللہ وحی کی تعمیل کا کس قدر شدید جذبہ رکھتے تھے۔ اسی طرح جس معاملے میں انھیں کوئی اشکال پیش آجاتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
اسی طرح یہ بھی بیان ہوا کہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی وضاحت کنندہ اور اس کے موافق ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ کھانے پینے اور جماع کی آخری حد فجرِ صادق کا طلوع ہے۔ بعض اوقات الفاظ کو ان کے ظاہری حسی معنی پر محمول نہیں کیا جاتا کیونکہ دلیلِ شرعی کسی اور مفہوم پر دلالت کر رہی ہوتی ہے۔