جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنّ جکڑ دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک ندا دینے والا منادی کرتا ہے: اے خیر کے متلاشی! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب! رُک جا۔ اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کیے گئے بندے ہوتے ہیں۔ ایسا ہر رات کو ہوتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن ترمذی (حدیث نمبر 682)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1642)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 1883)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3435) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1532) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 998) اور مشکاۃ المصابیح (حدیث نمبر 1960)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک ماہِ رمضان کی وہ عظیم الشان فضیلت ورحمت واضح کرتی ہے جو اس مہینے کا خاصہ ہے۔ كيوں کہ مومن اس مہینے کا استقبال پے در پے ربانی عطیات کے ساتھ کرتا ہے جو اسے اطاعت کے اسباب فراہم کرتے ہیں، اس کے سامنے امید ورجا کے دَر وا کرتے ہیں، اسے ایسے موسم میں نیکی کی طرف لپکنے کی دعوت دیتے اور بُرائی پر ڈٹے رہنے سے خبردار کرتے ہیں جس میں رحمتیں اُترتی ہیں اور ہر رات عطایائے ربانی کی تجدید جاری رہتی ہے۔
ان ربانی عطیات میں سب سے پہلا عطیہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: «جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے» یعنی ماہِ رمضان کی ابتدا ہوتی ہے۔ «شیاطین اور سرکش جنّ جکڑ دیے جاتے ہیں۔» (حدیث میں وارد لفظ) ’’تصفید‘‘ کے معنی ہیں: بیڑیوں میں جکڑنا، یعنی ان کے ہاتھ بیڑیوں اور زنجیروں سے باندھ دیے جاتے ہیں، چنانچہ وہ ابن آدم میں وسوسہ انداز ہونے اور انھیں بہکانے تک اس طرح نہیں پہنچ پاتے جیسے رمضان کے علاوہ پہنچتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے روزہ، قرآن اور ذکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے یہ فساد و بگاڑ پیدا کرنے کا کام اس طرح نہیں کرپاتے جس طرح غیر رمضان میں کرتے ہیں۔
(حدیث میں وارد لفظ) ’’المَرَدَۃ‘‘ سے مراد وہ سخت سرکش اور شریر جنّ ہیں جو شر اور بہکانے پر آمادہ رہتے ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ شر بالکل ختم ہوجاتا ہے کیونکہ انسان کو اپنے نفس سے جہاد بہرحال کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ شیطان اسی شخص کے لیے جکڑا جاتا ہے جو روزے کے آداب اور شرائط کو پورا کرتا ہے، البتہ جو شخص تمام اعضائے جسم کی حفاظت کی بجائے محض کھانا پینا چھوڑنے پر اکتفا کرتا ہے تو وہ اپنے علاوہ دوسرے (کامل روزہ دار) کی طرح نہیں ہے۔
اس مہینے میں عطایائے ربانی میں سے ایک یہ فرمانِ نبوی بھی ہے: «جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا۔» یعنی اہلِ توحید گناہ گار اللہ تعالیٰ کے بکثرت عفو ودرگزر سے سرفراز ہوتے ہیں۔ «اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔» جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ حدیث مبارک اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے، یعنی حقیقتاً جنت کے دروازے کھولے اور جہنم کے دروازے بند کیے جاتے ہیں۔
جنت کے دروازوں کا کھولا جانا فضیلتِ رمضان کی بشارت، نیک عمل کی ترغیب اور اس مہینے کی حرمت کی عظمت کا مظہر ہے۔
ماہِ رمضان میں عطایائے ربانی میں سے ایک یہ فرمانِ نبوی بھی ہے: «اور ایک ندا دینے والا منادی کرتا ہے: اے خیر کے متلاشی! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب! رُک جا۔» یہ ندا ہر رات دی جاتی ہے۔ درحقیقت یہ اعلانِ ربانی ہے کہ یہ محنت اور کوشش کا وقت ہے، اہلِ خیر کے لیے آگے بڑھنے کی ترغیب اور اہلِ شر کے لیے باز رہنے کی تنبیہ ہے، لیکن ساتھ ہی ان کے لیے توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے۔ چنانچہ نہ گناہ گار مایوس ہو اور نہ نیکی کا جویا سُست پڑے کیونکہ روزانہ اس موقع کی تجدید ہوتی ہے۔
ماہِ رمضان میں عطایائے ربانی میں سے ایک یہ فرمانِ نبوی بھی ہے: «اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کیے گئے بندے ہوتے ہیں۔ ایسا ہر رات کو ہوتا ہے۔» ایک روایت میں یوں ہے: «ہر افطاری کے وقت آزاد کیے گئے ہوتے ہیں۔» اور ایک دوسری روایت میں ہے: «ہر دن اور ہر رات میں۔»
اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے رمضان کی راتوں میں بہت سے ایسے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے جو اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق بن چکے ہوتے ہیں، چنانچہ وہ اپنے عفو ودرگزری سے ان پر مہربانی فرماتا ہے، تاکہ امید کا دَر کھلا رہے، دل اُمید ورجا سے وابستہ رہیں اور بندہ اس اُمید میں کوشش کرے کہ وہ بھی آزاد کیے جانے والوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔
مختلف روایات کے مذکورہ الفاظ باہم متعارض نہیں ہیں کیونکہ مقصود تو ماہ رمضان میں اس فضل کی تجدید اور باربار ہونے کو بیان کرنا ہے، نیز یہ آزادی روزانہ افطاری کے وقت ہوتی ہے جو غروبِ کامل کے بعد رات ہی کی ابتدا ہے، اس لیے افطاری کے اعتبار سے «دن» کا ذکر ہے، نہ کہ رات سے الگ مستقل حیثیت کے طور پر اسے ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث مبارک میں اس بات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ فضیلت والے اوقات کو غنیمت جاننا چاہیے کیونکہ شرف وفضیلت والا وقت بکثرت نیکی کے لیے معاون اور قلتِ گناہ پر مددگار ہوتا ہے۔ حدیث مبارک میں جنت وجہنم کا اثبات ہے۔ اسی طرح لمحۂ موجود میں بھی ان کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جنت وجہنم کے دروازے بھی ہیں جو کھولے اور بند کیے جاتے ہیں۔ نیز حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کے بے پایاں لطف وکرم کا بھی بیان ہے کیونکہ وہی ہے جو اپنے بندوں کے لیے اسبابِ ہدایت مہیا فرماتا، ان کے روزوں کی حفاظت کرتا اور شیاطین کے مکر وفریب کو کمزور کرتا ہے۔ یہ سب بندوں پر بطورِ رحمت اور ان کے لیے جنت کا راستہ آسان کرنے کی غرض سے ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔