منگل 26 صفر 1448 | 2026-08-11

A a

«مہینا تو انتیس دن کا ہوتا ہے، لہٰذا جب تک تم چاند نہ دیکھ لو تو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو تو روزہ نہ چھوڑو۔ پھر اگر تم پر مطلع ابرآلود ہوجائے تو چاند کی گنتی (تیس دن) پوری کرو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 1900) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1080) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ نے چاند کے مختلف مراحل کو اپنے بندوں کے لیے اوقات کی تعیین کا ذریعہ بنایا ہے۔ انھی کے ذریعے مہینوں کی ابتدا اور اختتام کا پتا چلتا ہے۔ روزوں اور حج وغیرہ جیسی عظیم الشان عبادات انھی سے وابستہ ہیں۔
اس حدیث مبارک میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مہینا تو انتیس دن کا ہوتا ہے۔» یعنی مہینا کبھی کم بھی ہوسکتا ہے، لہٰذا یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر مہینے کے تیس دن پورے کرنا لازم ہیں، بلکہ مہینا انتیس دن کا بھی ہوسکتا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے روزے کو ہلالِ رمضان کی رؤیت کے ساتھ معلق کیا ہے، چنانچہ فرمایا: «لہٰذا جب تک تم چاند نہ دیکھ لو تو روزہ نہ رکھو۔» یعنی تمھارے لیے رمضان کا روزہ اس وقت تک مشروع نہیں جب تک ہلالِ رمضان کی رؤیت ثابت نہ ہوجائے، جیساکہ اس فرمان میں بھی ہے: «جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو۔»
اس سے یہ حکم بھی اخذ ہوتا ہے کہ چاند کی رؤیت ثابت ہونے سے پہلے احتیاطاً روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ اسے ’’یومِ شک‘‘ (کا روزہ) کہا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: «اور جب تک چاند نہ دیکھ لو تو روزہ نہ چھوڑو۔» یعنی تمھارے لیے ماہِ رمضان سے نکلنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک ہلالِ شوال کی رؤیت ثابت نہ ہوجائے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا تعین ہلالِ رمضان اور ہلالِ شوال کی رؤیت ہی سے ہوگا، جبکہ فلکیاتی جمع تفریق کو مہینے کی ابتدا اور اختتام کے اثبات میں معتبر نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ شارع نے حکم کو چاند کی رؤیت کے ساتھ معلق کیا ہے، فلکیاتی حساب کے ساتھ نہیں۔ پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ رؤیت ممکن نہ ہونے کی صورت میں کیا کرنا واجب ہے، چنانچہ فرمایا: «پھر اگر تم پر مطلع ابرآلود ہوجائے تو چاند کی گنتی پوری کرو۔» یعنی اگر بادل یا گرد وغبار حائل ہوجائے اور رؤیتِ ہلال نہ ہوسکے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو، جیساکہ دیگر روایات میں اس کی صراحت ہے: «تو ماہِ شعبان کی گنتی تیس دن پوری کرو۔» اس سے واضح ہوا کہ «اس کی گنتی پوری کرو» سے مراد تیس دن مکمل کرنا ہیں، نہ کہ اس پر تنگی اور کمی مراد ہے (یعنی انتیس دن مراد نہیں)۔
حدیث مبارک میں ایک عظیم الشان قاعدہ ثابت کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ مہینے کی ابتدا اور اختتام میں اعتبار چاند کی رؤیت کا ہوگا، نہ کہ فلکیاتی حسابات کا۔ اسی طرح یہ حدیث یومِ شک کا روزہ احتیاطاً رکھنے کی ممانعت پر بھی دلالت کرتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ’’ماہِ رمضان‘‘ کو ’’ماہ‘‘ کی اضافت کے بغیر (صرف ’’رمضان‘‘) کہنا بھی جائز ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔