بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 5994) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1209) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1407)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 اپنی امت پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجا جائے کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر اور مبارک تذکرے کی سربلندی ہے۔ اس حدیث میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اس کی ترغیب دی ہے، چنانچہ فرمایا ہے: «مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو۔» یعنی میرے لیے اللہ تعالیٰ سے درود کی دعا کیا کرو، مثلاً: اللهم صل على محمد وآل محمد (اے اللہ! حضرت محمد اور آلِ محمد پر درود بھیج)۔
بندوں کی طرف سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعظیم وتوقیر کی دعا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ’’درود‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ملائے اعلیٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا وتعریف فرماتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرف عطا فرماتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ سربلند فرماتا ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں بکثرت درود کی تاکید فرمائی کیونکہ یہ دن نہاتی شرف وفضیلت والا ہے، بلکہ تمام دنوں کا سردار ہے اور اس کے ایسے فضائل ہیں جو کسی اور دن میں نہیں پائے جاتے، اس لیے اس دن کیا جانے والا عمل وقت کے شرف ومقام کے باعث زیادہ اجر وثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ علماء نے بیان کیا ہے کہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنا عظیم ترین اعمالِ تقرب سے ہے کیونکہ امت کو جو بھی خیر نصیب ہوئی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے سبب ملی ہے، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت پر یہ حق ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجے، بالخصوص جمعہ کے دن۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درود کا ثمرہ وفائدہ بیان کیا، چنانچہ فرمایا: «کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔»
اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ بندے پر اللہ تعالیٰ کی ’’صلاۃ‘‘ سے مراد اُس کی رحمت اور اجر میں اضافہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد بندے پر خصوصی توجہ وعنایت اور اسے گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کے نور کی طرف لانا ہے، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وہی ہے جو تم پر ’’صلاۃ‘‘ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے، تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے۔‘‘ (الأحزاب: 43)
حدیث مبارک میں اس بات پر دلالت ہے کہ ہر وقت نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنا مستحب ہے، جبکہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں اس کی تاکید مزید بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا نہایت عظیم الشان عمل ہے، نیز یہ اُن آسان ترین اعمال میں سے ہے جن پر عظیم الشان اجر مترتب ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔