«لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو؛ جب نو راتیں باقی رہ جائیں، سات راتیں باقی رہ جائیں، پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 2021) میں مروی ہے۔
اسی مفہوم کے ساتھ یہ حدیث بروایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1167) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اس اُمت پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل یہ بھی ہے کہ اُس نے اُمت کے لیے ایسے عظیم الشان مواقع مقرر فرمائے ہیں جن میں نیکیوں کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ان میں سب سے عظیم الشان رات لیلۃ القدر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نزولِ قرآن فرما کر شرف بخشا اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر بنایا۔
اس حدیث مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس رات کی تلاش کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: «جب نو راتیں باقی رہ جائیں، سات راتیں باقی رہ جائیں، پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔» اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس رات کو عشرۂ اخیرہ کی بعض راتوں میں تلاش کیا جائے اور غالباً یہ راتیں طاق ہیں، چنانچہ فرمایا: «جب نو راتیں باقی رہ جائیں» یعنی وہ رات جس کے بعد مہینے کی نو راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ اکیسویں رات ہے کیونکہ آخری عشرہ اسی رات سے شروع ہوتا ہے، چنانچہ جب اکیسویں رات شروع ہوتی ہے تو مہینے کے اختتام تک نو راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ پھر فرمایا: «سات راتیں باقی رہ جائیں» یعنی وہ رات جس کے بعد مہینے کی سات راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ تئیسویں رات ہے کیونکہ جب یہ رات شروع ہوتی ہے تو مہینے کے اختتام تک رمضان کی سات راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ پھر فرمایا: «پانچ راتیں باقی رہ جائیں» یعنی وہ رات جس کے بعد مہینے کی پانچ راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ پچیسویں رات ہے کیونکہ اس رات کے شروع ہونے پر مہینے کے اختتام تک رمضان کی پانچ راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔
اس رات کو ’’لیلۃ القدر‘‘ اس کی عظمتِ شان اور فضیلت کی بنا پر کہا جاتا ہے۔ یا اس لیے کہ اس میں سال بھر کی اموات اور رزق مقدر کیے جاتے ہیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اس رات ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ (الدخان: 4) علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لیلۃ القدر قیامت تک باقی رہے گی۔ یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص نہیں تھی، البتہ اس کی تعیین کو مخفی رکھا گیا، تاکہ مسلمان آخری عشرے کی تمام راتوں کی عبادت میں خوب جہد وسعی کریں۔
حدیث مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ لیلۃ القدر کوئی معین رات نہیں ہے، بلکہ اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا جائے گا، بالخصوص آخری عشرے کی طاق راتوں میں۔