جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«ایک عمرہ دوسرے عمرے تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے اور حجِ مبرور، اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں!»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1773) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1349) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے کہ اس نے ان کے لیے مختلف نیکیاں مشروع فرمائیں جنھیں گناہوں کی مغفرت، حسنات کی کثرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنایا۔ انھی میں سے وہ اجرِ عظیم اور فضائلِ کریم ہیں جو عمرہ وحج کرنے پر مترتب ہوتے ہیں، جیساکہ اس حدیث میں وارد ہے: «ایک عمرہ دوسرے عمرے تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔» اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص ایک عمرہ کرتا ہے، پھر دوسری بار عمرہ ادا کرتا ہے تو یہ عمل دونوں عمروں کے مابین ہونے والے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، بشرط کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو۔ اگر صغیرہ گناہ نہ ہوں تو اُمید ہے کہ یہ عمل کبیرہ گناہوں کا کفارہ بنے گا۔ پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «اور حجِ مبرور، اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ...» ’’مبرور‘‘ وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی آمیزش نہ ہو۔ یہ لفظ ’’بِرّ‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اطاعت اور نیکی کے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ حج کے لیے خرچ کیا گیا مال حلال ہو۔ تو یہی وہ حج ہے جس کے بارے میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں!»
اس میں حج کے عظیم الشان ثواب کی دلیل ہے کہ یہ صرف بعض گناہوں کی معافی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جب اس میں ’’بِرّ‘‘ کی شرائط پوری ہوجائیں تو یہ اپنے ادا کرنے والے کو سب سے اعلیٰ جزا، یعنی جنت میں داخلے تک پہنچا دیتا ہے۔
چنانچہ یہ حدیث مبارک ایک طرف عمرے کی ترغیب دیتی ہے اور گناہوں کے لیے اس کا کفارہ ہونا بیان کرتی ہے اور دوسری طرف حج کی عظمتِ شان اور اس کے بلند مقام کو بیان کرتی ہے۔
حدیث مبارک میں ان دونوں عبادات کی ترغیب کے ساتھ ساتھ یہ تاکید بھی ہے کہ انھیں شرعی طریقے کے مطابق ادا کیا جائے، تاکہ بندہ اُس مغفرت اور رضامندی تک پہنچ سکے جس کا مدار شارع نے ان پر رکھا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔