«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر (فطرانہ) روزہ دار کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کرنے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرنے کے لیے فرض قرار دیا۔ جس نے اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کیا تو وہ مقبول زکات (فطرانہ) ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ شمار ہوگا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنن ابوداود (حدیث نمبر 1609)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1827) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1488) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3570) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 843)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اس نے رمضان المبارک کے اختتام پر ان کے لیے زکاۃ الفطر (فطرانے) کو مشروع فرمایا، تاکہ روزے میں ہونے والی کوتاہیوں کی پاکی اور تلافی ہو اور فقراء ومساکین کے ساتھ احسان کا ذریعہ بھی ہو، تاکہ وہ بھی عید کے دن مسلمانوں کی خوشی میں شریک ہوسکیں۔
الفاظِ روایت «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر (فطرانہ) کو فرض قرار دیا» یعنی مسلمانوں پر فرض اور لازم قرار دیا۔
اسے ’’زکاۃ الفطر‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی نسبت رمضان کے ’’فطر‘‘ (روزہ ختم ہونے) کی جانب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے (کہ اس کا یہ نام اس لئے ہے) کیو نکہ یہ بدن کی زکات ہے، برخلاف معروف زکاۃ کے جو مال کی زکات ہوتی ہے۔
حدیث مبارک نے فطرانے کی مشروعیت کی دو حکمتیں بیان کی ہیں:
پہلی حکمت: «روزہ دار کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے۔» یعنی روزے کے دوران اگر کسی سے بے فائدہ یا نامناسب گفتگو کی وجہ سے کوئی نقص رہ جائے تو زکاۃ الفطر اس کمی کی تلافی کردیتی ہے، بالکل ایسے جیسے سجدۂ سہو نماز کی کمی کو پورا کردیتا ہے۔
دوسری حکمت: «مسکینوں کے لیے کھانے کا بندوبست ہے۔» یعنی یہ ایسا کھانا ہے جو عید کے دن فقراء کو دیا جاتا ہے، تاکہ وہ بھی مسلمانوں کی خوشی میں شریک ہوسکیں اور اس دن سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: «جس نے اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کیا تو وہ مقبول زکات (فطرانہ) ہے۔» اور یہ اس کا افضل وقت ہے جو طلوعِ فجر سے لے کر نمازِ عید تک رہتا ہے۔ بعض علماء نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی بنیاد پر عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی فطرانہ ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔ فرمانِ نبوی «اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ شمار ہوگا» کے معنی یہ ہیں کہ جس شخص نے فطرانہ اس کے مشروع وقت کے بعد ادا کیا تو اس کا فطرانہ کامل طور پر ادا نہیں ہوگا، بلکہ وہ عام صدقہ شمار ہوگا، اگرچہ اسے بطور قضا ادا کرنا پھر بھی واجب رہے گا۔
حدیث مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ فطرانہ خاص طور پر فقراء ومساکین کو دیا جائے گا۔ اسے عام زکاۃ کے مصارف میں خرچ نہیں کیا جائے گا۔