جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر دن اور ہر رات (جہنم سے)کچھ آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک بندے کی ایک دعائے مستجاب ہوتی ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ یا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 7450) میں مروی ہے۔ صحابی کے تعین میں شک راویِ حدیث امام اعمش کی طرف سے ہے۔
سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1643) میں بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ یہ الفاظ مروی ہیں: «بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر افطار کے وقت (جہنم سے) آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں۔ اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔»
اور سنن ترمذی (حدیث نمبر 682) میں بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یوں مروی ہے: «اللہ کے لیے آگ سے آزاد کیے گئے کچھ بندے ہوتے ہیں۔ اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 761)۔ علامہ البانی نے ’’التعلیق الرغیب‘‘ (2/68) میں فرمایا ہے: یہ حسن صحیح ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے کہ اُس نے اپنے فضل وکرم سے اُن کے لیے نیکیوں اور خیر وبرکت کے خاص مواقع مقرر فرمائے ہیں جن میں وہ اپنی رحمت واحسانات کی برکھا برساتا ہے۔ ان عظیم الشان مواقع میں سے ایک موقع ماہِ رمضان ہے کیونکہ اس میں گناہ معاف کیے جاتے ہیں، نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور ہر رات بہت سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے، جیساکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں اس بابت خبر دی ہے: «بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر دن اور ہر رات کچھ آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں۔» ایک روایت میں یوں ہے: «اللہ کے لیے آگ سے کچھ آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں ۔ اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔» ایک اور روایت میں یوں ہے: «بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر افطار کے وقت (جہنم سے) آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں۔ اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔» اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے احسان وکرم سے رمضان کی راتوں میں ایسے بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جو اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے عفو ورحمت سے انھیں بچا لیتا ہے۔
ان مختلف الفاظ میں کوئی باہم تعارض نہیں کیونکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ رمضان میں یہ فضل باربار اور مسلسل ظاہر ہوتا ہے، چنانچہ یہ آزادی ہر دن اور ہر رات میں ہوتی رہتی ہے اور روزانہ افطاری کے وقت بھی ہوتی ہے، یعنی غروبِ آفتاب اور روزہ مکمل ہونے کے وقت، تاکہ عبادت کا اختتام گناہوں کی معافی اور نیکی کی قبولیت کے ساتھ ہوجائے۔ یہاں «دن» کا ذکر دراصل روزہ دار کی افطاری کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رات سے الگ کسی مستقل معنی میں۔
فرمانِ نبوی ہے: «ان میں سے ہر ایک بندے کی ایک دعائے مستجاب ہوتی ہے۔» یعنی جس بندے کو اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد فرماتا ہے، اُسے ایک ایسی دعا کا موقع دیتا ہے جو ردّ نہیں کی جاتی، یعنی وہ دعا یقینی طور پر قبول ہوتی ہے، نہ کہ ایسی دعا جس کی قبولیت کی محض اُمید ہو۔
حدیث مبارک میں ایک عظیم الشان خوشخبری ہے جس میں جہنم سے نجات اور دعا کی قبولیت یکجا ہے، چنانچہ بندہ سزا سے بھی محفوظ ہوجاتا ہے اور اسے مطلوبہ خیر وبھلائی بھی عطا کی جاتی ہے۔
وفيه أيضًا: دليلٌ على كثرةِ العِتقِ في رمضان، وعِظَمِ رحمةِ الله تعالى فيه، غيرَ أنَّه لا يَحسُنُ بالعبد أن يركنَ إلى عفوِ الله وسَعةِ رحمتِه، بل الواجبُ عليه أن يغتنمَ فرصة شهرِ رمضانَ بكثرةِ الطاعة، وصِدقِ التوبة، وحُسنِ الإقبال على الله؛ رجاءَ أن يكون مِن زمرةِ المعْتُوقِين.
حدیث میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ رمضان المبارک میں جہنم سے بہت زیادہ آزادی ملتی ہے، نیز اس مہینے میں رحمتِ الٰہی کی عظمت بھی معلوم ہوئی، تاہم بندے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ صرف اللہ کے عفو ورحمت کی وسعت پر بھروسا کر کے بیٹھ رہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ رمضان کے اس بابرکت موقع کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، سچی توبہ کرے اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، اس امید میں کہ وہ بھى ان آزاد لوگوں کے زمرے شامل ہوجائے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔