جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دنیوی اعتبار سے سب سے زیادہ خوش بخت کمینہ ابن کمینہ نہ بن جائے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 23303)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 2209) اور دلائل النبوہ از بیہقی ( 6/ 392) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 7431) اور ہدایۃ الرواۃ (حدیث نمبر 5294)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معیار اور پیمانے الٹ جائیں گے، حتیٰ کہ نااہل لوگوں کو آگے کیا جائے گا اور دنیوی نعمتیں اور فائدے ایسے لوگوں کے حصے میں آئیں گے کہ میزانِ شریعت میں وہ بے قدر وقیمت ہوں گے۔ اسی بابت نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دنیوی اعتبار سے سب سے زیادہ خوش بخت ایسا شخص نہ بن جائے۔» یعنی دنیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ خوش بخت بن جائے گا، یعنی خوشگوار زندگی، مال کی فراوانی، بلند مرتبہ، اقتدار اور غلبہ رکھنے والا ایسا شخص بن جائے گا جو میزانِ شریعت میں بالکل بے وزن ہوگا۔ اور وہ ہے: «لُکع ابن لُکع۔» یہ الفاظ انتہائی کم ظرفی اور پستی پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ الفاظ ایسے لئیم اور بدخصلت شخص پر بولے جاتے ہیں جس کی نہ کوئی قابلِ تعریف اصل ہو اور نہ قابلِ مدح اخلاق ہوں۔ اس لفظ کی تکرار (لُکع ابن لُکع) مبالغے کے لیے ہے، یعنی کمینہ ابن کمینہ جس کی اصل (خاندان) اور پرورش دونوں ہی پست ہوں۔
حدیث مبارک میں اس بات کی خبر ہے کہ آخری زمانے میں اَقدار اور پیمانے اُلٹ جائیں گے۔ اس میں دنیا کی مذمت بھی ہے کیونکہ دنیا اکثر ایسے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے کہ جو اللہ کے نزدیک بالکل بے وزن ہوتے ہیں۔ حدیث میں اہلِ ایمان کے لیے تسلی کا سامان بھی ہے کہ نااہل اور غیرمستحق لوگوں کو دنیا میں آگے بڑھتا ہوا دیکھیں تو اس پر حیران نہ ہوں۔ حدیث میں یہ ضمناً تنبیہ بھی ہے کہ انسان دنیا کی چمک دمک اور اس کے دلدادہ لوگوں سے دھوکے میں نہ آئے اور نہ کم ظرف اور پست لوگوں کی پیروی کرے۔ حدیث سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ اصل اعتبار کثرتِ مال یا بلندمنصبی نہیں، بلکہ اصل قدر تقویٰ وللہیت کی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔