جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جو شخص اس حالت میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے روزے باقی تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 1952) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1147) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 یہ اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی شریعت کی آسانی ہے کہ اس نے مسلمان کی حالت کو اس کی موت کے بعد بھی نظرانداز نہیں کیا، بلکہ ایسے احکام مشروع فرمائے جن سے وہ بری الذمہ ہوجائے اور زندگی میں جو کمی رہ گئی ہو، وہ بھی پوری ہوجائے۔ انھی میں سے یہ حکم بھی ہے جو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں مذکور ہے: «جو شخص اس حالت میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے روزے باقی تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔» یعنی جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اس کے ذمے واجب روزے باقی تھے، جیسے: رمضان کی قضا، نذر کے روزے یا کفارے کے روزے اور وہ انھیں ادا نہ کر سکا تو اس کے ولی کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ وہ اس کی طرف سے روزہ رکھے، تاکہ فوت شدہ بری الذمہ ہوسکے۔
یہاں ’’ولی‘‘ سے مراد میت کے قریبی رشتہ دار ہیں، جیسے: اس کا باپ، بیٹا، بھائی یا دیگر اقارب۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وارث ہے۔ لیکن اقرب الی الصواب بات یہ ہے کہ اس سے مقصود عمومی طور پر قریبی لوگ ہیں، بلکہ اگر کوئی اجنبی بھی اس کی طرف سے روزہ رکھ لے تو میت بری الذمہ ہوجائے گی کیونکہ مقصودِ اصلی تو میت کی طرف سے روزے کی قضا ہے جو حاصل ہوجاتا ہے۔
فرمانِ نبوی «اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا» اگرچہ بصیغۂ خبر وارد ہوا ہے، لیکن اہلِ علم کے نزدیک باعتبارِ معنی حکم ہے، یعنی اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ تاہم یہاں یہ حکم وجوب کی بجائے استحباب پر محمول کیا جائے گا کیونکہ روزہ عبادت ہے اور کسی کو کسی دوسرے انسان کی طرف سے عبادت کرنے کا مکلف نہیں بنایا جائے گا، البتہ اگر ولی روزہ رکھنے کے بجائے ہر دن کے بدلے فدیے کے طور پر ایک مسکین کو کھانا کھلا دے تو یہ بھی جائز ہے، بشرط کہ میت نے ترکے میں مال چھوڑا ہو۔ یہ قضا، یا فدیے کے طور پر کھانا کھلانا اس صورت میں ہے جب فوت شدہ کو روزے کی قضا کا موقع ملا ہو اور اس نے قضا نہ کی ہو۔ لیکن اگر اسے موقع ہی نہ ملا، مثلاً: بیماری طول پکڑ گئی اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا تو نہ اس پر قضا ہے اور نہ فدیے کے طور پر کھانا کھلانا کیونکہ وہ بلاتقصیر فوت ہوا ہے۔
تو حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ میت کی طرف سے روزے کی قضا مشروع ہے، اس کے اولیاء کو اس کی ترغیب دی گئی ہے اور نیز شریعت مسلمان کے مرنے کے بعد بھی اسے بری الذمہ کرنے کا پورا اِہتمام کرتی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔