«بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن جب اپنے گھر سے نکلتے تو تکبیرات کہنا شروع کردیتے اور عیدگاہ پہنچنے تک تکبیرات کہتے رہتے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1105)، سنن دارقطنی (حدیث نمبر 1714) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 6131) میں مروی ہے۔
اسی طرح یہ حدیث موقوفاً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 6129)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1106) اور سنن دارقطنی (حدیث نمبر 1712) میں مروی ہے۔ سنن کبریٰ بیہقی کے الفاظ یوں ہیں: «بے شک حضرت عبداللہ بن رضی اللہ عنہما عمر مسجد سے عید کے لیے جلدی نکلا کرتے تھے اور عیدگاہ پہنچنے تک بلند آواز سے تکبیرات کہا کرتے اور پھر عیدگاہ میں امام کے آنے تک تکبیرات کہتے رہتے۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5004) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 650)۔ علامہ البانی اس میں فرماتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک موقوفاً اور مرفوعاً، دونوں طرح صحیح ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
ماہِ رمضان کی گنتی مکمل ہونے کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا کامل شکر ادا کرنے اور روزوں کی تکمیل پر اظہارِ فرحت میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عیدالفطر کے دن تکبیرات کو مشروع فرمایا، تاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت کا بیان ہو، شعارِ عید کا اعلان ہو اور اس ہدایت وتوفیق پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے معنی كا اظہار ہو ۔
اس حدیث مبارک میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلتے تو تکبیرات کہنا شروع کردیتے اور عیدگاہ پہنچنے تک تکبیرات کہتے رہتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ تکبیرات بلند آواز سے کہتے تھے، تاکہ اس عظیم الشان شعار کا اظہار ہو اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تعمیل ہو: ’’اور تاکہ تم (روزوں کی) گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی کبریائی بیان کرو اس پر جو اس نے تمھیں ہدایت عطا فرمائی ہے۔‘‘ (البقرة: 185)
حضرت عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ وہ عیدگاہ پہنچنے تک تکبیرات کہتے رہتے تھے اور امام کے آنے تک تکبیرات جاری رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدگاہ کے راستے میں تکبیرات کہنا سلف صالحین رضی اللہ عنہم کے ہاں ایک معروف اور مشہور سنت تھی۔
لہٰذا مسلمانوں کو بھی یہ ظاہری سنت زندہ کرنی چاہیے جو آج کل بہت سے لوگوں میں متروک ہوچکی ہے، تاکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کی پیروی ہو، اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار ہو اور نعمتِ رمضان کی تکمیل پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔ یاد رہے کہ اس موقع پر اجتماعی طور پر بیک آواز تکبیرات کہنا مشروع نہیں، بلکہ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ تکبیرات کہے گا۔