بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل چل کر جایا کرتے تھے اور پیدل ہی واپس تشریف لاتے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1295)، معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 2867) اور معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 13382) میں مروی ہے۔
سنن ترمذی (حدیث نمبر 530) میں بروایت حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ الفاظ مروی ہیں: «عید کے لیے تمھارا پا پیادہ نکلنا سنت میں سے ہے...»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4932) اور صحیح سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1071)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم اور ان کے اظہار کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سب سیکھ لیں۔ انھی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید کے لیے پیدل تشریف لے جاتے اور واپسی بھی پیدل فرماتے تھے۔ اس روایت میں تواضع وانکسار اور اُس عظیم الشان اجر کی طرف اشارہ ہے جو مقامِ عبادت تک جانے آنے کے لیے قدموں کی کثرت (بہت زیادہ چلنے) پر ملتا ہے۔
علمائے کرام نے اس حدیث سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ جس کے لیے ممکن ہو، اس کے لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ عید کے لیے پیدل جانا مستحب ہے، نیز یہ عمل خشوع اور تواضع کے بھی زیادہ قریب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سواری پر جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، بالخصوص جب ضرورت بھی ہو۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔