جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے۔» راوی کہتے ہیں: «جب عید اور جمعہ ایک ہی دن میں جمع ہوجاتے تو پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں میں انھی دونوں سورتوں کی قراءت کرتے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 878) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نقل کرنے اور نمازِ عیدین وجمعہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ مبارک بیان کرنے کا بہت اہتمام فرمایا۔ انھی میں سے وہ حدیث بھی ہے جس کی خبر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے دی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی قراءت کیا کرتے تھے۔ اور جب عید اور جمعہ ایک ہی دن ہوجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں میں بھی یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عید اور جمعہ میں ان دونوں سورتوں کی تلاوت مستحب ہے کیونکہ ان میں آخرت، مرنے کے بعد دوبارہ جی اُٹھنے اور جزا وسزا کی یاددہانی ہے۔ اور یہ مضامین ان نمازوں میں مسلمانوں کے اجتماع کے تناظر میں نہایت موزوں ہیں۔
اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کے علاوہ اور سورتیں بھی تلاوت کی ہیں، چنانچہ عیدین میں کبھی سورۂ قٓ اور سورۃ القمر پڑھی اور جمعہ میں کبھی سورۂ جمعہ سورۂ منافقون کی تلاوت کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سورتوں کی قراءت میں تنوع ہے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر وبیشتر سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ ہی کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص اس مسنون قراءت کے علاوہ کوئی اور سورت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، تاکہ یہ گمان نہ پیدا ہوجائے انھی سورتوں کی تلاوت واجب ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔