«عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی۔» پھر کچھ عرصے بعد میں نے اس بارے میں دوبارہ پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا: «مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عیدالفطر کے دن امام کے نکلتے وقت نماز کے لیے اذان نہیں ہوتی اور نہ اس کے نکلنے کے بعد اذان ہوتی ہے۔ اسی طرح نہ کوئی اقامت ہے، نہ کوئی پکار اور نہ کوئی اور چیز۔ اس دن نہ ندا ہوتی ہے اور نہ اقامت۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم صحیح بخاری (حدیث نمبر 960) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 886) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 887) میں بروایت حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث میں ہے، وہ کہتے ہیں:
«میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے ایک دو بار نہیں، بلکہ کئی بار پڑھی۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عیدین کا طریقہ اور اس کے احکام واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ انھی میں سے ایک وہ روایت ہے جو دو صحابیوں؛ حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت ادا فرمایا کرتے تھے۔ یہی نمازِ عید کا مسنون طریقہ ہے کہ جب امام عیدگاہ میں آئے تو وہ سیدھا نماز شروع کرے۔ نمازِ عید کے لیے اذان اور اقامت محض اس لیے مشروع نہیں کی گئی کہ اس نماز کا وقت معلوم ہے اور لوگ اس کے لیے جمع ہوتے ہیں، اس لیے اذان اور اقامت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، جیساکہ فرض نمازوں کے لیے اذان اس لیے خاص کی گئی ہے تاکہ نوافل سے ممتاز ہوجائیں اور ان کے مقام کا اظہار بھی ہوجائے۔ مزید برآں اگر نمازِ عید کے لیے بھی اذان مشروع ہوتی تو یہ اس کے وجوب کی متقاضی ہوتی جو اس کے غیرواجب ہونے سے موافقت نہیں رکھتا۔
بہرحال اس کی جو بھی حکمت بیان کی جائے، اصل بات یہ ہے کہ سنت کی پیروی ہی سب سے بہتر اور اولیٰ ہے اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی رہا ہے۔
الفاظِ روایت «نہ کوئی پکار اور نہ کوئی اور چیز» اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نمازِ عید سے پہلے اذان، اقامت اور ’’الصلاة جامعة‘‘ (نماز کے لیے جمع ہوجاؤ) کی پکار مشروع نہیں ہے۔ البتہ نمازِ کسوف (سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز) کے لیے ’’الصلاة جامعة‘‘ کہہ کر لوگوں کو بلانا مشروع ہے کیونکہ یہ سنت سے ثابت ہے۔ اور اس لیے بھی یہ مشروع ہے کہ یہ نماز اکثر وبیشتر اچانک واقع ہوتی ہے تو اس لیے لوگوں کو نماز کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔