«نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کے دن دو رکعت (نمازِ عید) ادا فرمائی جس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں صدقہ دینے کا حکم دیا تو وہ اپنے زیورات ڈالنے لگیں؛ ان میں سے کوئى عورت اپنى بالیاں اور اپنا ہار (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈال رہى تھى۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 964) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 884) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث مبارک نمازِ عید کے چند اہم احکام وآداب، خطبۂ عید اور اس میں خواتین سے متعلق بعض اہم مسائل بیان کر رہی ہے۔
سب سے پہلی بات جو اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ نمازِ عید صرف دو رکعت ہے۔ اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اس پر امت کا اجماع ہوچکا ہے۔ پھر کہا: «جس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔» یہ دوسرا حکم ہے کہ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ تشریف لائے تو صرف نمازِ عید ہی ادا فرمائی۔ اس سے پہلے نہ کوئی سننِ رواتب پڑھیں، نہ تحیۃ المسجد ادا کی اور نہ کوئی اور نفلی نماز۔ البتہ یہ حکم عیدگاہ کے ساتھ خاص ہے۔
جہاں تک عیدگاہ سے باہر نوافل پڑھنے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ سنت سے ثابت ہے کیونکہ نماز بجائے خود ایک بہترین عبادت ہے۔ اس کی دلیل حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: «نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے، لیکن جب اپنے گھر واپس تشریف لاتے تو دو رکعت نماز ادا فرماتے۔»
پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز اور خطبے سے فراغت کے بعد عورتوں کے پاس تشریف لے گئے، چنانچہ انھیں وعظ ونصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ ایک دوسری حدیث میں صدقے کے اس حکم کی وجہ بھی بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ عورتیں شکوہ شکایت زیادہ کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں۔ «تو وہ اپنے زیورات ڈالنے لگیں۔» یعنی صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت پر فوراً لبیک کہا اور صدقہ دینے لگیں، چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں، یعنی سونے یا چاندی سے بنے ہوئے کانوں کے حلقے اور اپنے ہار، یعنی خوشبو سے گوندھی ہوئی دانوں کی شکل کی مالائیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
حدیث مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ شرعی ضوابط کی پابندی کے ساتھ عورتوں کا نمازِ عید کے لیے نکلنا مشروع ہے، نیز خواتین کو الگ وعظ ونصیحت تبھی مستحب ہے جب وہ پہلا خطبہ نہ سن سکیں، یا ان کے لیے پہلا خطاب واضح نہ ہوسکے۔
اس حدیث میں صحابیات طیبات رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بھی بیان ہے کہ کیسے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر وثواب کی رغبت میں فوراً صدقہ کرنے کے لیے تیار ہوگئی تھیں۔
اسی طرح اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ بالغ اور سمجھ دار عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف کا حق رکھتی ہے۔