ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ شب قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میرا خیال ہے کہ تمھارے خواب آخری عشرے کے بارے میں ہیں، اس لیے لیلۃ القدر اس کی طا ق راتوں میں تلاش کرو۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح مسلم (حدیث نمبر 1165) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اس اُمت پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل یہ بھی ہے کہ اُس نے اُمت کے لیے ایسے عظیم الشان مواقع مقرر فرمائے ہیں جن میں اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ ان مواقع میں سب سے عظیم الشان موقع لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔
اس حدیث مبارک میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میرا خیال ہے کہ تمھارے خواب آخری عشرے کے بارے میں ہیں۔» یعنی میں جانتا ہوں کہ تمھارے خواب اس بات پر ایک دوسرے کے موافق ہیں کہ وہ رات رمضان کے آخری دس دنوں میں ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس وقت کی طرف راہنمائی فرمائی جس میں اس کے پائے جانے کی زیادہ امید ہے، چنانچہ فرمایا: «اسے ان کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔» یعنی رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر تلاش کرو۔ وہ طاق راتیں یہ ہیں: اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں۔ کیونکہ ان راتوں میں لیلۃ القدر کے وقوع کی زیادہ امید ہے۔
حدیث مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ لیلۃ القدر کوئی متعین رات نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آخری عشرے میں بالعموم اور آخری عشرے کی طاق راتوں میں بالخصوص تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسی طرح یہ حدیث نیک خواب کی اہمیت پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ کبھی ایسا خواب مخفی اُمور کی طرف متنبہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔