جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عیدالفطر یا عیدالاضحی کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے۔ جب امام نے (نماز شروع کرنے میں) تاخیر کی تو انھوں نے اس پر ناپسندیدگی ظاہر کی اور فرمایا: «ہم تو اس وقت تک نماز سے فارغ ہوچکے ہوتے تھے!» اور یہ نمازِ چاشت کا وقت تھا۔


یہ حدیث سنن ابوداود (حدیث نمبر 1135)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1317) اور صحیح بخاری میں تعلیقاً (2/19) مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 1040) اور صحیح ابن ماجہ (حدیث نمبر 1085)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


عبادات میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ ان کے اوقات اور ظاہری کیفیت کی اُسی طرح پابندی کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں مشروع فرمایا ہے۔ اس حدیث میں صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ عیدالفطر یا عیدالاضحی کے دن لوگوں کے ساتھ عیدگاہ گئے۔ جب امام کو نماز کے لیے آنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو انھوں نے اس تاخیر پر ناپسندیدگی ظاہر کی اور فرمایا: «ہم تو اس وقت تک نماز سے فارغ ہوچکے ہوتے تھے!» یعنی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وقت تک نمازِ عید سے فارغ ہوچکے ہوتے تھے۔ الفاظِ روایت ہیں: « اور یہ ’’تسبیح‘‘ کا وقت تھا۔» علماء نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے: اس سے مراد یہ ہے کہ جب نمازِ ضحی کا وقت شروع ہوتا ہے۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب سورج ایک نیزہ بلند ہوجائے، یعنی سورج نکلنے کے تقریباً بیس منٹ بعد۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ جیسے ہی ممنوع وقت ختم ہو، نمازِ عید اس کے فوراً بعد ابتدائی وقت میں ادا کی جائے۔ یاد رہے کہ بعض علماء نمازِ عیدالفطر قدرے تاخیر سے پڑھنے کو مستحب قرار دیتے ہیں، تاکہ لوگوں کو فطرانہ ادا کرنے کا مناسب موقع مل سکے اور نمازِ عیدالاضحی جلدی ادا کرنے کو مستحب کہتے ہیں، تاکہ لوگ جلد واپس جاکر اپنی قربانیاں ذبح کرسکیں۔
حدیث مبارک میں اس مسئلے کی مشروعیت بیان ہوئی ہے کہ اگر امام نماز کو اس کے مقرر اوّل وقت سے موخر کردے تو اس پر زبانی تنبیہ کی جائے گی۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔