بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے، البتہ جب اپنے گھر واپس تشریف لاتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1293)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1102) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 6228) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ابن ماجہ کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4859) اور صحیح ابن ماجہ (حدیث نمبر 1069)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نقل فرمایا کرتے تھے، تاکہ لوگ اس کی پیروی کریں۔ اسی طرح انھوں نے نمازِ عید کے بارے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بیان کیا ہے، چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں نہ نمازِ عید سے پہلے کوئی نوافل پڑھتے تھے اور نہ نمازِ عید کے بعد، بلکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ تشریف لاتے تو ابتدا عید کی نماز ہی سے کرتے اور جب نماز اور خطبے سے فارغ ہو جاتے تو بھی عیدگاہ میں کوئی نفل ادا نہ کرتے تھے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے جاتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اس میں اس بابت اشارہ ہے کہ نمازِ عید سے فراغت کے بعد گھر میں نفل پڑھنا جائز ہے اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نفل نہ پڑھنا عیدگاہ کے ساتھ مخصوص تھا۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ عبادات میں اصل چیز اتباعِ سنت ہے، لہٰذا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدگاہ میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں نفل پڑھنا منقول نہیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک ہی سنت ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نمازِ عید اس طرح ادا کی جائے کہ اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نہ پڑھے جائیں، البتہ جب مسلمان اپنے گھر واپس لوٹ آئے تو اس کے لیے دو رکعتیں پڑھنا مستحب ہے۔ اور اگر اس سے زیادہ بھی پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ نفل نماز دراصل ہر وقت مشروع ہے، سوائے ممنوع اوقات کے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔