جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک کچھ کھا نہ لیتے اور عیدالاضحی کے دن اس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک واپس تشریف نہ لے آتے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 22983)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 542) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1756) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
مسند احمد کی ایک روایت (حدیث نمبر 22984) میں یہ اضافہ ہے: «پھر اپنی قربانی (کے گوشت میں) سے کھاتے۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4845) اور التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 2801)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ عید میں شعائرِ اسلام کے اظہار کی شدید خواہش رکھتے تھے اور انھی ایام میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان ایام سے متعلق اللہ تعالیٰ کے مشروع کردہ آداب واحکام کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ انھی میں سے ایک مسئلہ نمازِ عید سے پہلے اور بعد میں کھانے سے متعلق ہے، چنانچہ اس حدیث مبارک میں حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ عیدالفطر کے دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید کے لیے اس وقت تک نہ نکلتے جب تک کچھ تناول نہ فرما لیتے، تاکہ روزہ چھوڑنے کا اظہار ہو اور روزے کے دنوں سے امتیاز قائم ہوجائے اور یہ گمان نہ رہے کہ روزے کا حکم ابھی باقی ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے ذریعے اس اشتباہ کو دُور فرما دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارک یہ تھا کہ وہ طاق عدد میں کھجوریں تناول فرماتے تھے۔
البتہ عیدالاضحی کے دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید سے واپسی تک کچھ نہیں کھاتے تھے۔ مقصود یہ تھا کہ جو چیز سب سے پہلے تناول فرمائیں، وہ ان کی قربانی کا گوشت ہو۔ ایسا شعارِ ذبح کے اظہار اور اللہ تعالیٰ کی مشروع کردہ قربانی پر شکرگزاری کے لیے تھا۔ یہ حکم اُس شخص کے لیے ہے جس کے پاس قربانی موجود ہے، لیکن جس کے پاس قربانی نہیں ہے تو اس کے لیے نماز سے پہلے کچھ بھی کھانے رک جانا مستحب نہیں ہے۔
حدیث مبارک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبادات میں اشتباہ والتباس کا سدباب اور واضح امتیاز قائم کیا جائے، تاکہ ان کے احکام آپس میں خلط ملط نہ ہوں۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔