بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن صبح کے وقت تب تک نہیں نکلتے تھے جب تک چند کھجوریں نہ کھا لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں طاق عدد میں کھاتے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 953) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کے شوق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکات وسکنات (معمولاتِ زندگی) کو نہایت اہتمام سے نقل کیا کرتے تھے۔ انھی میں سے ایک بات وہ ہے جو انھوں نے نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے بارے میں بیان کی ہے، چنانچہ اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم «عیدالفطر کے دن صبح کے وقت تب تک نہیں نکلتے تھے جب تک چند کھجوریں نہ کھا لیتے۔» یعنی صبح کے وقت عیدگاہ جانے سے پہلے۔ یہاں ’’الغُدوّ‘‘ سے مراد دن کے ابتدائی حصے میں نکلنا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں طاق تعداد میں تناول فرماتے تھے، یعنی تین، پانچ وغیرہ طاق اعداد کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (ایک) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے۔ اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی وحدانیت کا یک گونہ احساس بھی پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کھجور کھانے میں آسان اور سریع الفائدہ ہے، جبکہ اس کی مٹھاس روزے کے بعد طبیعت کے لیے موزوں بھی ہوتی ہے۔ اگر کھجور میسر نہ ہو تو بندہ پانی وغیرہ سے روزہ نہ ہونے کا اظہار کرے گا۔
عیدالفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھانے میں حکمت یہ ہے کہ روزہ نہ رکھنے کا اظہار ہو اور روزے کے دن سے برعکس دن معلوم ہو، تاکہ یہ گمان نہ رہے کہ روزے کا حکم آج کے دن بھی باقی ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھا کر اس شبہے کو دُور فرما دیا۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔